Feed aggregator
سری لنکا:سابق فوجی سربراہ کی رہائی کا حکم
سربیا میں صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے ووٹنگ
جی ایٹ اجلاس: یونان کو یورو زون کا حصہ رکھنے اور نمو کو فروغ دینے پر اتفاق
صدارتی انتخاب: منفی انتخابی مہم کی پیش گوئی
اوباما اور رومنی کے درمیان انتخابی مہموں میں نوک جھونک شروع ہو چکی ہے اور تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ اب سے لے کر نومبر تک یہ طویل انتخابی مہم بڑی حد تک منفی ہوگی۔
امریکہ میں رائے عامہ کا جائزہ لینے والوں میں گیلپ آرگنائزیشن کا نام بہت معتبر سمجھا جاتا ہے۔ فرانک نیوپورٹ اسی تنظیم سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اگر آپ تمام چیزوں کو سامنے رکھیں تو میرا خیال یہ ہے کہ اس مرحلے پر یہ مقابلہ بالکل برابر کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم نے لوگوں سے پوچھا کہ اگر الیکشن آج ہوتا ہے، تو آپ کسے ووٹ دیں گے، تو امریکہ میں، دونوں امیدواروں کو ووٹ دینے والوں کی تعداد بالکل برابر، یعنی 46 فیصد رہی۔‘‘
اگر یہ پیش گوئیاں صحیح ثابت ہوتی ہیں، تو 2012ء کا مقابلہ دوسرے حالیہ صدارتی انتخابات کی طرح ہو گا۔ ان میں 2000ء اور 2004ء کے انتخابات شامل ہیں۔
بیشتر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس سال کی انتخابی مہم میں اہم مسئلہ معیشت کا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ووٹرز کو مسٹر اوباما پر اتنا اعتماد ہے کہ وہ انہیں مزید چار سال تک صدارت کا موقع دیں یا وہ ان کے بجائے رومنی کو لے آئیں۔
<!--IMAGE-RIGHT-->
رومنی 1,144 ڈیلی گیٹس کے حصول کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ یہ وہ تعداد ہے جو ریپبلیکن پارٹی کی طرف سے صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے اپنی انتخابی مہم میں بیشتر توجہ معیشت کے بارے میں اوباما کی پالیسیوں کی طرف مرکوز کی ہے۔ ان کے مطابق ’’انھوں نے زیادہ پیسہ خرچ کیا ہے اور زیادہ قرض لیا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ صدر ایسا ہو جو صحیح معنوں میں لیڈر ہو، جو ملک کی قیادت کرے۔ میں آپ کو اس قرض سے اور اندھا دھند خرچ سے نجات دلاؤں گا۔‘‘
چار سال قبل آسانی سے فتح حاصل کرنے کے بعد، صدر اس بار اپنے ڈیموکریٹک حامیوں کو انتباہ کر رہے ہیں کہ اس سال مقابلہ بہت سخت ہو گا۔ حال ہی میں، مسٹر اوباما نے نیو یارک میں انتخابی مہم کے لیے فنڈ جمع کرنے کے ایک اجتماع میں کہا کہ ’’مجھے آپ سب کی ضرورت پڑے گی۔ یہ مقابلہ بہت سخت ہو گا۔ کسی کو یہ فرض نہیں کرنا چاہیئے کہ ہم آسانی سے جیت جائیں گے۔‘‘
رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹرز ذاتی حیثیت میں، مسٹر اوباما کو رومنی کے مقابلے میں زیادہ پسند کرتے ہیں، لیکن بہت سے جائزوں میں، رومنی کو معیشت کو چلانے کے معاملے میں معمولی سی برتری حاصل ہے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن میں ایک سیاسی ماہر، تھامس مین کہتے ہیں کہ نومبر میں فیصلہ کُن چیز یہ ہوگی کہ معیشت کے بارے میں عام لوگوں کا تاثر کیا ہے ۔
<!--IMAGE-LEFT-->
’’میں تو یہ کہوں گا کہ اہم ترین چیز یہ ہے کہ کیا معیشت میں کچھ جان پڑ رہی ہے اور وہ آگے بڑھ رہی ہے یا وہ پھر انحطاط کی طرف جا رہی ہے۔ اگر اس میں پھر انحطاط آ رہا ہے تو پھر اوباما کا دوبارہ منتخب ہونا سخت خطرے میں ہے۔‘‘
2004ء میں صدر جارج ڈبلو بش اور ڈیموکریٹ جان کیری کے درمیان مقابلے کی طرح، اس سال دونوں امیدوار اپنی اپنی پارٹیوں کے حامیوں پر انحصار کریں گے کہ وہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے آئیں۔
لیکن جن انتخابات میں برابر کا مقابلہ ہوتا ہے، ان کا فیصلہ عام طورسے غیر جانبدار ووٹر کرتے ہیں، یعنی وہ لوگ جو کسی بھی پارٹی کے کٹر حامی نہیں ہوتے، اور جو انتخاب کے دن کسی کو بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔
کین ڈبرسٹین 1980ء کی دہائی میں صدر رونلڈ ریگن کے چیف آف اسٹاف رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’جن ووٹوں سے واقعی فرق پڑے گا وہ غیر جانبدار لوگوں کے ووٹ ہیں۔ اگر دونوں پارٹیوں کے کٹر حامی ووٹ ڈالنے آتے ہیں، تو کوئی بھی نہیں جیتے گا۔ اصل لڑائی غیر جانبدار ووٹوں کے لیے ہے۔ لہٰذا آپ کو اپنے ووٹروں کا حلقہ وسیع کرنا چاہیئے اور خود کو صرف اپنے موجودہ حامیوں تک محدود نہیں کرنا چاہیئے۔‘‘
اگرچہ یہ انتخابی مہم بہت تند و تیز ہو گی، لیکن رومنی نے صدر کے خلاف ایک مجوزہ حملے کی مہم کو مسترد کر دیا ہے جو ایک مالدار قدامت پسند بزنس مین جو رکیٹس کی ایما پر تیار کی گئی تھی۔
نیو یارک ٹائمز نے کہا کہ ایک کروڑ ڈالر کی ایک اشتہاری مہم کا مقصد ، جس کے لیے رکیٹس رقم فراہم کرنا چاہتے تھے، یہ تھا کہ متنازعہ پادری جیریمیاہ رائٹ کے ساتھ ، ماضی میں مسٹر اوباما کے تعلقات کو پھر سے زندہ کیا جائے۔ لیکن اب ایک ترجمان نے کہا ہے کہ رکیٹس نے مجوزہ مہم مسترد کر دی ہے۔ ریپبلیکن امیدوار جان مکین نے ایسی ہی ایک مہم کی مخالفت کی تھی جب 2008ء میں وہ مسٹر اوباما کے خلاف کھڑے ہوئے تھے۔
سری لنکا: فوج کے سابق سربراہ کی رہائی کا حکم
سری لنکا کے صدر مہندا راجا پاکسے نے ملک کی فوج کے سابق سربراہ اور حکومت مخالف رہنما سارتھ فونسیکا کی رہائی کا حکم دیا ہے۔
مسٹر راجا پاکسے نے اس سلسلے میں حکم نامے پر ہفتہ کو دستخط کیے جو پیر کو وزارتِ انصاف کو ارسال کیا جائے گا۔ فونسیکا کی رہائی سے متعلق شرائط فوری طور پر واضح نہیں ہیں۔
فوج کے سابق سربراہ ہتھیاروں کی خریداری سے متعلق جرائم میں 30 ماہ قید کی سزا کے علاوہ 2009ء میں ایک اخباری انٹرویو میں سیکرٹری دفاع پر جھوٹے الزامات عائد کرنے کی پاداش میں تین سال قید کی سزا بھی کاٹ رہے ہیں۔
<!--IMAGE-LEFT-->
فونسیکا کا دعویٰ ہے کہ اُن کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے کیوں کہ وہ صدارتی انتخاب میں مسٹر راجا پاکسے کے مدِ مقابل کھڑے ہوئے تھے۔
فونسیکا کو مئی 2009ء میں تامل ٹائیگر باغیوں کو شکست دے کر 25 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کے سلسلے میں خاصی مقبولیت حاصل ہے۔
زوکر برگ کا اسٹیٹس اپ ڈیٹ، ’شادی شدہ‘
فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کی اچانک شادی
نابینا چینی منحرف بالآخر امریکا پہنچ گئے
شمشیر الحیدری دوبارہ پیدا نہیں ہوگا
مصرکی فوج مظاہرین پر تشدد میں ملوث ہے: ہیومن رائٹس واچ
انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے مصر کی فوج پرالزام لگایا ہے کہ اس نے مئی کے شروع میں قاہرہ میں وزارت دفاع کے قریب مظاہرے کے دوران گرفتار کیے جانے والے افراد کو ماراپیٹا اور تشدد کانشانہ بنایا ہے۔
نیویارک میں قائم ادارے ہیومن رائٹس واچ نے ہفتے کے روز کہا کہ سپائیوں نے ہزاروں افراد کے مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے، جو فوری طورپر فوجی اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کررہے تھے، ان کے خلاف پانی کی بوچھار استعمال کی اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔
اس دوران انہوں نے 350 کے لگ بھگ افراد کو حراست میں لے لیا۔
ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ڈائریکٹر جو سٹارک نے کہاہے کہ مظاہرہ کرنے والی خواتین اور مردوں کی بے رحمی سے مارپیٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ فوجی عہدے داروں کو اپنی حدود کا احساس نہیں ہے۔
دو مئی کو وزارت دفاع کی عمارت کے باہر سڑک پر تین روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں اور اس کے بعد دو روزہ لڑائیوں میں کم ازکم 11 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔
مصر میں صدارتی انتخابات 23 اور 24 مئی کو ہورہے ہیں۔
نیٹو سربراہ اجلاس: زرداری، اوباما ملاقات شیڈول میں شامل نہیں
شکاگو میں نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران صدر آصف علی زرداری، افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی صدر براک اوباما کی سہ فریقی ملاقات کا امکان تقریباً ختم ہوگیا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے صدر اوباما کے شیڈول کےمطابق اگرچہ وہ افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کر رہے ہیں، لیکن اُن کی صدر زرداری سے ’باہمی یا سہ فریقی ملاقات‘ شیڈول میں شامل نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس شیڈول میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اِس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے ابھی تک افغانستان کے لیے نیٹو کی سپلائی لائن بحال نہیں کی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدر زرداری کو نیٹو کے اجلاس میں شرکت کے لیے ملنے والا دعوت نامہ غیر مشروط تھا، لیکن ہو سکتا ہے کہ صدر اوباما سے ملاقات کا پروگرام غیر مشروط نہ ہو۔
بظاہر صدر اوباما اورصدر زرداری کے درمیان ملاقات کا امکان تو نہیں، لیکن مبصرین کےمطابق، یہ ملاقات بغیر کسی شیڈول کے اچانک بھی ہوسکتی ہے۔
صدر آصف علی زرداری اپنے وفد کے ہمراہ شکاگو پہنچ چکے ہیں۔
سخت مالیاتی پالیسیوں کے خلاف جرمنی میں مظاہرہ
مالیاتی کفائت شعاری کی پالیسیوں کے خلاف، جن سے یورپ کا ایک بڑا حصہ متاثر ہورہاہے، جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے معیشت پر بینکوں کے بڑھتے ہوئے غلبے کے خلاف بھی احتجاج کیا جسے وہ سرمایہ کاری کی ایک بدترین قسم قرار دے رہے تھے۔
یورپ کے سب سے بڑے مالیاتی مراکز میں سے ایک میں ہفتے کے روز قبضہ کرو تحریک کے مقامی حامی ایک پرامن مظاہرے کے لیے اکٹھے ہوئے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین کی تعداد کم ازکم 20 ہزار تھی۔
بلاکوپی نامی تنظیم نے مظاہرین سے فرینکفرٹ کے تجارتی ضلع میں واقع یورپیئین سینٹرل بینک کے راستے بند کرنے کی اپیل کی تھی ۔
پچھلے سال جرمنی میں بہت سے لوگوں نے قبضہ کرو عالمی تحریک کی حمایت میں شاہراہوں پر مظاہرے کیے تھے، لیکن اس وقت وہاں یہ تحریک جلد ہی ناکام ہوگئی تھی کیونکہ جرمنی کی معیشت مضبوط اور بے روزگاری کی سطح بہت کم ہے اور مالیاتی کفائت شعاری کی پالیسیوں کا جرمنی پر وہ اثرنہیں ہوا جس طرح جنوبی یورپی ممالک اس کا نشانہ رہے ہیں۔
لیکن اب جرمنی کے باشندے سخت مالیاتی کٹوتیوں کے خلاف یونان، سپین اور پرتگال کے عوام کی حمایت کے اظہار کے لیے ایک بار پھر سڑکوں پر نکلے ہیں۔
چیمپیئنز لیگ کے فائنل میں بائرن میونخ کی شکست
’محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ، واضح پیغام دیں گے‘
پاکستان افغانستان کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں ساتھ دے، راسموسن
نیٹو کانفرس، سکیورٹی انتظامات اور احتجاج
سستا انصاف، مگر کیسے؟
پاکستان میں آزاد عدلیہ کی تحریک اور پھر اس تحریک کے نتیجے میں ایک فوجی حکمران صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں معزول ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کےبعد عوام الناس میں اس امید کا پیدا ہونا یقینی تھا کہ اب نہ صرف انصاف ہو گا بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔ اب انصاف نہ صرف سستا ہو گا ، بلکہ تیز تر بھی ہو گا۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے,کہ:Justice Delayed is Justice Denied
چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بحال ہوئے تقریبا ًچار سال ہو چکے ہیں۔ مبصرین کے بقول، اس عرصے میں سپریم کورٹ نے ’’طاقتوروں‘‘ کا ہاتھ روکنے کی کوشش کی ہے۔ ملک کے اندر حکمرانوں اور طرز ِحکمرانی پر عدالت عظمیٰ کی کڑی نظر رہی ہے۔ لیکن، اس عرصے میں کسی بڑے کو سزا نہیں ہوئی: تیس سیکنڈ والی سزا کے علاوہ۔ اور نہ ہی کسی بڑے مقدمے کا فیصلہ آیا ہے۔
اسی طرح، بعض اہمیت کے حامل فیصلے آئے بھی ہیں تو وہ عملدرآمد کے بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔
اس کے باوجود، بالعموم کہا جاتا ہے کہ اعلی عدلیہ کی کارکردگی تو حوصلہ افزا رہی ہے لیکن ذیلی یا ضلعی عدالتوں میں صورتحال میں کوئی سدھار نہیں آیا۔ آج بھی یہاں مقدمات طوالت کا شکار ہیں۔ تاریخ پر تاریخ سائلین کا منہ بدستور چڑا رہی ہے۔
غالباً، اسی امر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پاکستان کےچیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نےبذات خود بھی ہفتے کے روز ایک تقریب سے خطاب میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ضلعی عدالتوں میں ججز کی تعداد بڑھائی جائے، تاکہ فوری انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
وائس آف امریکہ کے پروگرام ’ ان دا نیوز‘ میں ماہر قانون سابق جسٹس وجیہہ الدین اور امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں سینئر اٹارنی سید نیر اظفر نے گفتکو کرتے ہوئے پاکستان کے اندر لوئر کورٹس میں انصاف کے عمل کو شفاف اور تیز بنانے کے لیے تجاویز دیں۔ جسٹس وجیہہ الدین کا کہنا تھا کہ ججوں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی طرز پر ’پلی بارگین‘ متعارف کرائی جانی چاہیئے۔ اس عمل کے تحت ملزم کو، جس کے خلاف ٹھوس شواہد ہوں، یہ موقع دیا جاتا ہے کہ اگر وہ عدالت کا وقت ضائع نہ کرے اور اعترافِ جرم کر لے تو اُس کی سزا میں تخفیف ہو سکتی ہے۔
جسٹس وجیہہ الدین کے بقول، ایک ’فئیر جرگہ‘ یا ’پنجائت سسٹم‘ جس میں نہ صرف سرداروں کی نمائندگی ہو بلکہ غریب طبقے کے نمائندہ سمجھدار لوگ شامل ہوں، عدالتوں پر مقدمات کا بوچھ کم کر سکتا ہے۔
سید نیئر اظفرنے بتایا کہ ’پلی بارگین‘ اور پبلک کے لوگوں کو جیوری میں شامل کرنے کے عمل نے امریکہ میں انصاف کے عمل کو شفاف اور تیز تر بنانے میں مدد کی ہے۔
مزید تفصیلات آڈیو رپورٹ میں:
افغانستان: خودکش حملے میں 13 افراد ہلاک
افغان حکام نے کہاہے کہ ہفتے کے روز مشرقی صوبے خوست میں ایک خودکش بمبار نے پولیس کی ایک پڑتالی چوکی پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور کم ازکم چھ زخمی ہوگئے۔
صوبائی عہدے داروں نے کہاہے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع شورش زدہ ضلع علی شیر میں پولیس کی پڑتالی چوکی پر جانے والے حملہ آور نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی۔
عہدے داروں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کچھ عام شہری بھی ہیں جو وہاں پولیس اہل کاروں سے ملاقات کررہے تھے۔
یہ حملہ شکاگو میں نیٹو سربراہ کانفرنس سے صرف ایک روز پہلے ہوا ہے جہاں کئی ممالک کے سربراہان، 2014ء کے اختتام تک زیادہ تر غیر ملکی لڑاکا فوجیوں کی روانگی یا ان کی سرگرمیاں امدادی کارروائیوں تک محدود ہوجانے کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی ضروریات پر مذاکرات کریں گے۔
ہفتے ہی کے روز ایک اور خبر کے مطابق نیٹو نے کہاہے کہ ملک کے مشرقی حصے میں عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں ان کے دواہل کار ہلاک ہوگئے ہیں۔
نیٹو کے بیان میں ہلاک ہونے والے اہل کاروں کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا تعلق فوج کے کس شعبے سے تھا۔
سپیس ایکس کی خلائی پرواز مؤخر
زمین کے مدار میں گردش کرنے والے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب بھیجے جانے والے پرائیویٹ شعبے کے خلائی جہاز کی افتتاح پرواز تکنیکی خرابی کے باعث مؤخر کردی گئی ہے۔
فلوریڈا کے کیپ کارنیوال زمینی مرکز سے ہفتے کو طلوع آفتاب سے قبل خلائی راکٹ کے ذریعے ’ ڈریگن کیپسول‘کی روانگی دوسری بار ملتوی کی گئی ہے۔
نئے پروگرام کے تحت اسے منگل کی صبح دوبارہ روانہ کیا جائے گا۔
کیپسول سفید رنگ کے ایک لمبے اور باریک راکٹ پر نصب کیا گیا ہے جو سپیس ایکس کمپنی کی ملکیت ہے۔ اس کیپسول کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے سامان بھیجا جارہاہے۔
سپیس ایکس کمپنی کی سربراہ گوین شاٹ ویل نے کہاہے کہ ایک کمپیوٹر کے ذریعے یہ پتا چلنے کے بعد کہ ایک انجن کے چیمبر میں دباؤ بہت زیادہ ہے، کمپنی نے پرواز مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس خرابی کی وجوہات کا تعین نہیں کیا جاسکا۔
شاٹ ویل نے نامہ نگاروں کوبتایا کہ پرواز کے لیے راکٹ کے تمام نوانجن چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ راکٹ میں نصب ڈریگن کیپسول کی اس پرواز کے ذریعے، جسے ایک تجرباتی پرواز کہا جارہاہے، 544 کلوگرام سامان خلائی اسٹیشن پر بھیجا جارہاہے۔
تاہم خلائی اسٹیشن کے عملے کو اس سامان کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔
سیپس ایکس کمپنی کو خلائی پروازوں کے لیے امریکی خلائی ادارے ناسا نے 38 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقوم فراہم کی ہیں۔ ناسا نے اپنی خلائی شٹل گذشتہ سال ریٹائر کردی تھی۔ اور اب وہ روس کے خلائی جہازوں کےذریعے اپنے خلاباز اور سامابین الاقوامی خلائی اسٹیشن بھیج رہاہے۔
بھارت: بس حادثے میں 16 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
بھارت میں پولیس نے کہاہے کہ ہفتے کے روز اجمیر جانے والی ایک بس کھڑے ہوئے ٹرک سے ٹکرانے کے بعد شعلوں کی لپیٹ میں آگئی جس سے 16 افراد ہلاک اور دودرجن سے زیادہ زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق بس مسلمان زائرین سے کھچا کچ بھری ہوئی تھی جو زیارت کے لیے اجمیر جارہے تھے۔شمالی بھارتی ریاست اترپردیش میں یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بس میں ایک کھڑے ہوئے ٹرک سے ٹکرانے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
شدید شعلوں کے باعث امدادی کارکنوں کے لیے مسافروں تک پہنچنا مشکل ہوگیا اور وہ کچھ ہی مسافروں کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوسکے جن میں سے اکثر بری طرح جل چکے تھے۔
پولیس اس بارے میں تحقیقات کررہی ہے کہ آیا بس میں غیر قانونی طورپر آگ لگانے والا مواد تو نہیں لے جایا جارہاتھا۔
پولیس یہ تعین کرنے کی کوشش بھی کررہی ہے کہ حادثہ کیسے پیش آیا تھا۔