Latest News
ارجنٹینا میں ٹرین حادثہ، 49 افراد ہلاک
ارجنٹینا کے حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بیونس آئرس میں ایک مسافر ٹرین کو پیش آنے والے حادثے میں کم از کم 49 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
حکام کے مطابق مسافروں سے کھچا کھچ بھری ٹرین شہر کے مصروف ترین ریلوے اسٹیشن 'ونس' سے رکے بغیر آگے نکل گئی اور پٹری کے اختتام پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں سے جا ٹکرائی۔
ریل میں سوار مسافروں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ بظاہر ریل کے بریک فیل ہوگئے تھے۔ امدادی اہلکاروں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر بوگیوں میں پھنسے مسافروں کو باہر نکالا اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں کم از کم 550 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔
جائے حادثہ پر موجود حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹرین جب پٹری کے اختتام پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں سے ٹکرائی تو اس کی رفتار 20 سے 30 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین کی رفتار اس قدر تیز تھی کہ رکاوٹوں سے ٹکرانے کے بعد ٹرین کی ایک بوگی آگے والی بوگی میں چھ میٹر تک جا گھسی۔
حادثہ صبح اس وقت پیش آیا جب مشرقی نواحی علاقوں سے شہر میں واقع دفاتر جانے والے مسافروں کی بڑی تعداد ٹرین میں سوار تھی۔
حکام نے اسے گزشتہ 30 برسوں میں ملک کا بدترین ریل حادثہ قرار دیا ہے۔
امریکی اخبارات سے: پیٹرول کی قیمتیں
’کرسچن سائینس مانٹر‘ کہتا ہےکہ پٹرولیم مصنوعات کے بڑھتےہوئےدام صدراوباما کےدوبارہ منتخب ہونے کے امکانات پرایک حد تک اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں ایسا ہواہے کہ اس طرح یہ دام بڑھے تو برسر ِاقتدا صدر انتخاب ہار گیا۔ چنانچہ، اخبار کہتا ہے کہ مسٹر اوباما کو دام بڑھ جانے پر اُتنی ہی تشویش ہےجتنی پٹرول کے عام صارفین کو ۔ وجہ یہ ہے کہ جیسے جیسے دام بڑھتےہیں صدر کی مقبولیت میں اسی قدرکمی آجاتی ہے۔
خبارکہتا ہے کہ منگل کے روز امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت ساڑھے تین ڈالر فی گیلن سے ذرا زیادہ تھی ۔ یعنی ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں چھ سینٹ زیادہ اور ایک ماہ قبل کے مقابلے میں 19 سینٹ زیادہ ۔منگل ہی کے دن تیل کے فی بیرل قیمت میں ڈھائی ڈالر اضافہ ہوا اور ایک بیرل 106 ڈالر کا ہوگیا۔
ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ اسرائیلی حملے کی وجہ سےتیل کی منڈیوں میں سراسیمگی بڑھتی جا رہی ہے۔
اخبار کہتا ہے کہ فی بیرل تیل میں ایک ڈالر کا اضافہ ہو جائےتو امریکہ میں پٹرول کے دام تقریباً ڈھائی سینٹ فی گیلن بڑھ جاتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ صدر اوباما کےلئے پٹرول کی قیمت میں اضافہ اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ اس سے معیشت پر منفی اثر مرتّب ہو سکتا ہے۔ کیونکہ، ماہرین کی رائے کےمطابق اگر قیمت فی گیلن چار ڈالر سے بڑھ گئی تو اس سے معیشت سُست پڑ جائے گی۔ جو صدر کے دوبارہ منتخب ہونے کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ریپبلکن صدارتی نامزدگی دوڑ میں اب جو چار امّید وارباقی رہ گئے ہیں ۔ اُن میں میساچوسیٹس کے سابق گورنر مِٹ رامنی ، سابق سینیٹر رِک سینٹورم ، سابق سپیکر نُیوٹ گِنگرِچ اور رُکن کانگریس ران پال ہیں، جِن کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے اور جیسا کہ اخبار ’اری زونا ری پبلک‘ کہتاہے، اس مقابلے کی شدّت بڑھتی ہی جارہی ہے، جِس میں اب تک سبقت لے جانے والے امیدوار مٹ رامنی کے لئے آنے والااختتام ہفتہ خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے،کیونکہ انہوں نے مشی گن کی پرائمری میں کامیابی کو اپنے لئے انتہائی لازمی قرار دیاہے۔ اخبار کا اندازہ ہے کہ اگر وہ وہاں ناکام ہو گئے یا اری زونا ریاست میں ڈگمگا گئے،جہاں رائے عامّہ میں ان کی سبقت گر گئی ہے ۔تو پھر اس دوڑ میں اُن کا برقرار رہنا ایک سوالیہ نِشا ن بن کر رہ جائے گا۔
اس پر ’شکاگو ٹریبیون‘ کے تجزیہ کار بِل پریس کا کہنا ہے کہ مشی گن کے تازہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق مٹ رامنی پر سابق سینیٹر رک سینٹورم سبقت لے گئے ہیں جِس پر ان کا سوال ہے کہ کیا ری پبلکن ، سینٹورم کو اپنا صدارتی امید وار چننے میں سنجیدہ ہیں۔کیونکہ، ان کی دانست میں وہ نیوٹ گِنگرچ سے بھی بدتر امّید وار ثابت ہونگے ۔ رک سینٹورم بیشتر حلقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی سخت مخالفت کرنے پر وجہ نزاع بنے ہوئے ہیں اور ملک کو درپیش روزگار ، صحت ، تعلیم اور امیگریشن جیسے مسائیل چھوڑ کر سینٹورم کی خطابت کا سارا زور خاندانی منصوبہ بندی کی مخالفت پر ہوتا ہے۔ اور بل پریس کا سوال ہے کہ آیا وُہ صدر کے عُہدے یا پاپائے روم کے عُہدے کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔
اخبار ’پٹس برگ پوسٹ گزیٹ‘ کہتا ہے کہ یمن میں جو نیا صدر آیا ہے وہ کسی تبدیلی کا نقیب نہیں ہوگا۔
ہوا یہ ہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح طبی علاج کے لئے امریکہ میں ہیں اور وہ یہیں رہیں گے اس سے قبل وہ 33 سال بر سر اقتدار رہے اور ان کا شمار دنیا کے خبیثوں میں ہوتا ہے اور جہاں تک اپنے عوام پر تشدّد اور ظلم ڈھانے کا تعلّق ہے تو ان کا موازنہ یا تو زمبابوے کے رابرٹ موگابے سے یا شام کے بشارالاسد سے ہی ہوسکتا ہے۔
اخبار کہتا ہے کہ ان کی جانشین حکومت ان سے مختلف نہیں ہو سکتی۔ کہنے کو تو نائب صدر عبد الرّبو منصور ہادی منگل کے انتخاب میں چنے گئے، جو سننے میں تو اچھا لگتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ واحد امّید وار تھے جن کا انتخاب خود مسٹر صالح نے کیا تھا۔
اخبارکہتا ہے کہ یمن کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تشدّد کے لئے ہمہ تن تیار جتھوں میں بٹی ہوئی ہے۔ دُشمنی شمالی اور جُنوبی یمن کے مابین بمعہ اپے دارالحکومتوں یعنی صناع اور عدن کے برقرار ہے اس میں سُنّی اور شیعہ مسلمان ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انتہا پسند اور اعتدال پسند دونوں وہاں موجود ہیں۔ اوسامہ بن لادن کے خاندان کا تعلّق یمن سے تھا اور سنہ 2000 میں امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر عدن ہی کی بندر گاہ سے حملہ ہوا تھا۔
آڈیو رپورٹ سنیئے:
افغان وفد آیا، نہ مذاکرات ہوئے: طالبان
چین اور ترکی کے درمیان تعاون بڑھانے کے معاہدات
ایشیا کی دو ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں ترکی اور چین نے باہمی تجارت اور تعاون میں اضافے کے دو نئے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
معاہدوں پر دستخط کی تقریب بدھ کو انقرہ میں منعقد ہوئی جس میں ترکی کے دورے پر موجود چین کے نائب صدر زی جن پنگ بھی شریک تھے۔
معاہدوں کے تحت دونوں ممالک کی کمپنیاں ایک ارب 40 کروڑ ڈالرز کا معاشی تعاون کریں گی جب کہ دو طرفہ تجارت کو آئندہ تین برس تک مقامی کرنسیوں میں کیا جائے گا جس کی مالیت ایک ارب60 کروڑ ڈالرز بنتی ہے۔
واضح رہے کہ چین اور ترکی کے درمیان باہمی تجارت کا حجم گزشتہ 10 برسوں کے دوران میں 24 ارب ڈالرز سالانہ تک جاپہنچا ہے لیکن اس کا زیادہ تر حصہ چینی برآمدات پر مشتمل ہے۔
ترک حکام باہمی تجارت میں موجود اس عدم توازن کے خاتمے کے خواہاں ہیں اور اپنے ملک میں چین کی جانب سے مزید سرمایہ کاری، چینی سیاحوں کی ترکی آمد اور دیگر مقامات بشمول افریقہ کے مختلف منصوبوں میں چین اور ترکی کی مشترکہ سرمایہ کاری کا تقاضا کر رہے ہیں۔
اپنے دورے میں باہمی تعاون میں اضافے کے معاہدوں کے علاوہ چینی رہنما نے ترک قیادت سے اپنی ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے دیگر امور اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
تاہم چینی نائب صدر کے دورے کے دوران میں طرفین نے باہم متنازع امور پرگفتگو سے گریز کیا جن میں سب سے اہم معاملہ چینی حکام کی جانب سے صوبہ سنکیانگ میں ترک نسل سے تعلق رکھنے والی اقلیتی ایغور آبادی کے خلاف جاری کاروائیاں ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان شام میں جاری سیاسی بحران کے حل کے طریقہ کار پر بھی سنگین اختلافات موجود ہیں۔
روس کے صدارتی امیدوار
ولادی میر پوٹن:
پوٹن 2000ء سے 2008ء تک روس کے صدر رہ چکے ہیں اوراس وقت وزیراعظم کے طورپر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ یونائیٹڈ رشیہ پارٹی کے ٹکٹ پر صدارتی انتخاب لڑ رہے ہیں ۔ روس کے متوسط طبقے میں ان کی مقبولیت کا گراف مسلسل گر رہاہے لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ وہ مارچ کا الیکشن جیت جائیں گے۔
میخائل پروخروف:
میخائل کا شمار روس کے تین امیرترین افراد میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایک آزاد امیدوار کے طورپر صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ کاروباری حقوق کی نگہبانی کرنے والی ایک تنظیم میں شامل رہ چکے ہیں۔ وہ خود کو متوسط طبقے کے ایک نمائندے کے طورپر پیش کررہے ہیں۔ میخائل موجودہ حکومت کی بدعنوانی اور بیورکریسی کے بے پناہ غرورو تکبر پرشدید ناقد ہیں۔
گرینڈے زیوگانوف:
زیوگانوف کاتعلق کمیونسٹ پارٹی سے ہے اور وہ 1996ء کے بعد سے چوتھی مرتبہ صدارتی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ مبصربین کا خیال ہے کہ ان کا پٹن کے سخت مقابلہ ہوگا اور وہ دوسرے نمبر پر رہ سکتے ہیں۔ انہوں نےاپنے انتخابی منشور میں ریاستی وسائل کو قومی ملکیت میں لے کر سماجی بہبود کے پروگراموں میں اضافے کے ذریعے ملک کے استحکام میں اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
سرگئی میرونوف:
میرونوف ، جسٹ رشیہ پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار ہیں۔ وہ ملک میں سماجی جمہوری سیاسی نظام قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ روس اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات اور شراکت داری کے حامی ہیں۔
ولادی میر زیرینوسکی :
ولادی میر لبرل ڈیموکریٹک پارٹی آف رشیہ کے بانی ہے اور 1991ء کے بعد سے پانچویں بار صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہ اپنے بے لاگ تبصروں اور بیانات کی بنا پر شہرت رکھتے ہیں۔ قوم پرستی کے زبردست حامی اور امریکی عمل دخل کے خلاف ہیں۔
صومالیہ کے ایک اہم قصبے پر سرکاری فورسز کا قبضہ
ایتھوپیا اور صومالیہ کی فورسز نے ملک کے جنوب مغربی حصے میں واقع ایک اہم قصبے سے عسکریت پسند تنظیم الشباب کے جنگجوؤں کو نکال کر اس پر قبضہ کرلیا ہے۔
عینی شاہدوں نے وائس آف امریکہ کی صومالی سروس کو بتایا کہ سرکاری فوجیوں نے بدھ کے روز الشباب کے عسکریت پسندوں کے قصبے بائیدوا سے نکل جانے کے بعد اس پر کسی لڑائی کے بغیر قبضہ کرلیا۔
یہ قصبہ 2009ء میں الشباب کے قبضے سے قبل صومالیہ کی عبوری حکومت کا ایک اہم مرکز تھا۔
ایتھوپیا ، کینیا اور افریقی یونین کی فورسز الشباب کے خلاف لڑائی میں صومالی حکومت کی مدد کررہی ہیں۔
عسکریت پسند تنظیم الشیاب نے ، جو القاعدہ کے ساتھ الحاق کرچکی ہے، 2007ء سے حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں سخت اسلامی قوانین کے نقاذ کی کوششیں کررہی ہے۔
الشباب کے قصبے میں وسطی اور جنوبی صومالیہ کے کئی علاقے ہیں ، لیکن حالیہ کچھ عرصے میں اسے دارالحکومت موگادیشو اور مرکزی شہر بلیدوین اور کئی دوسرے علاقے ان کے قبضے سے نکل چکے ہیں۔
بائیدواپر قبضہ لندن میں صومالیہ کے مستقبل پرمجوزہ بین الاقوامی کانفرنس سے ایک روز قبل ہوا ہے۔ اس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سمیت بہت سے عہدے دار شریک ہورہے ہیں۔
بلوچستان پر امریکی قرارداد کے حامی ہیں: برہمداغ بگٹی
بلوچ ری پبلیکن پارٹی کے سربراہ نواب زادہ برہمداغ بگٹی نے امریکہ کے ایوان زیریں میں بلوچستان سے متعلق جمع کرائی جانے والی قرارداد کا خیرمقدم کیاہے۔
بدھ کے روز کوئٹہ میں سوئزرلینڈ سےایک ٹیلیفونک کانفرنس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بلوچستان پیکیج کو مسترد کردیا۔ انہوں نے بلوچستان مسئلے کے حل سے متعلق مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے بارے میں یہ کہا ہے کہ اے پی سی اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔
انہوں نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور دوسرے راہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر بلوچ قوم پرستوں کی تحریک میں شامل ہوجائیں۔
برہمداغ بگٹی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس بلانا فہم سے بالاتر ہے۔ کیونکہ ایک جانب بلوچوں کی نعشیں ان کے حوالے کی جارہی ہیں اور دوسری طرف حکمران کانفرنس کی باتیں کررہے ہیں۔
بلوچ راہنمانے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا کو ڈیرہ بگٹی اور صوبے کے دیگر علاقوں تک رسائی فراہم نہیں کررہے۔
پاکستان کی حکومت اور قومی دھارے کی سیاسی جماعتیں بلوچستان پر امریکی ایوان زیریں میں پیش کی جانے والی قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کے اندونی معاملات میں مداخلت قرار دے چکی ہیں۔
انڈونیشیا: مزوروں کی بے چینی سے غیرملکی سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ
انڈونیشیا کا شمار ایسے ایشیائی ممالک میں ہوتا ہے جہاں کارکنوں کی تنخواہیں بہت کم ہیں جس کے باعث اس ملک میں ان غیر ملکی کمپنیوں کے لیے دلچسپی بڑھ رہی ہے جو چین اورخطے کے دوسرے ممالک میں کارکنوں کے بڑھتے ہوئے معاوضوں پر پریشان ہیں۔
جکارتہ میں ایک مزور کا کم ازکم معاوضہ 170 ڈالر مہینہ ہے جو کہ شنگھائی کے 240 ڈالر فی مہینہ کے مقابلے میں نمایاں طورپر زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ انڈونیشیا کی معیشت ترقی کررہی ہے اور گذشتہ سال مصنوعات تیار کرنے والوں اور برآمد کندگان نے ریکارڈ منافع کمایا تھا۔ جب کہ مزور تنظیموں نے اس منافع کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے حصے میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔
گذشتہ سال جنوری میں کئی مہینوں تک اپنے معاوضوں میں اضافے کے مطالبے کے بعد جکارتہ کے مضافات میں واقع صنعتی اداروں کے 20 ہزار سے زیادہ مزوروں نے ہڑتال کرکے کئی کاروباروں کو بند کروادیاتھا۔
جس کے بعد حکومت اور انڈونیشیا میں روزگار فراہم کرنے والوں کی تنظیم نے مزوروں کی تنخواہوں میں 15 فی صد اضافے پر اتفاق کرلیاتھا۔
مزوروں کی تنظیمیں اب برطرف کیے جانے والے ملازموں سے متعلق بھاری معاوضوں کی ادائیگی کے 2003ء قانون پر بھی دوبارہ گفت وشنید کا مطالبہ کررہی ہیں ۔ کیونکہ اکثر کمپنیاں اس قانون کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے زیادہ تر افراد کو مستقل ملازمتیں دینے کی بجائے کنٹریکٹ آفر کرتی ہیں۔
مزور راہنماؤں کا کہناہے کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ 2003ء کے بعد سے مستقل ملازمین کی تعداد میں نمایاں کمی آچکی ہے۔
حکومتی عہدے دار مزوروں سے متعلق قوانین پر بات چیت کرتے رہے ہیں لیکن حالیہ ہفتوں میں یہ سلسلہ ٹوٹ جانے کے بعد اب قانون سازوں کا کہناہے کہ ان کا مذکورہ قانون پر نظرثانی کااب کوئی ارادہ نہیں ہے۔
جب کہ مزور تنظیموں کے ایک طاقت ور اتحاد نے دھمکی دی ہے کہ وہ اصلاحات کے نفاذ تک مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
جب کہ ایک مزور راہنما حسن الدین ان مظاہروں کے غیر ملکی سرمایہ کاروں پر ممکنہ اثرات سے خائف ہیں۔ حالیہ مہینوں میں جاپانی اور جنوبی کوریا کی کمپنیوں نے انڈونیشیا کی حکومت سے یہ شکایت کی ہے حالیہ ہنگاموں کے باعث ان کے کاروباروں کا شدید نقصان پہنچا ہے۔
حسن الدین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ وہ اس سلسلے میں پیش رفت پر سنجیدہ ہے۔ لیکن ابھی ایسے آثار بہت کم ہیں کہ گفت وشنید کی معاہدے پر پہنچنے والی ہے اور مزوروں کا احتجاج جاری رہنے کا امکان بدستور موجود ہے۔
چین: نئے تبتی سال کے موقع پر سیکیورٹی میں اضافہ
چین کے شمال مشرقی صوبے کے تبتی باشندوں نے بدھ کے روز اپنے نئے سال کا آغاز روایتی تقریبات سے کیا۔ یہ تقریبات ایک ایسے موقع پر ہورہی ہیں جب چین کے اقتدار کے خلاف تبتی باشندے احتجاج اور خود سوزیاں کرتے رہے ہیں۔
چین کی حکومت نے علاقے میں سیکیورٹی سخت کرکے کچھ متاثرہ علاقوں کے ساتھ مواصلاتی رابطے کاٹ دیے ہیں تاکہ نئے سال کی تقریبات کے موقع پر مظاہروں کو روکا جاسکے۔
سخت سیکیورٹی اقدامات کے پیش نظر بھارت میں قائم جلاوطن تبتی حکومت کے وزیر اعظم لوبسانگ سانگے نے تبتی باشندوں پر زور دیاہے کہ وہ اپنے نئےسال کی تقریبات نہ منائیں بلکہ اس کی بجائے چینی اقتدار کے تحت زندگی بسر کرنے والوں کے حق میں دعائیں کریں۔
منگل کے روز صوبے گانسو کی بودھ عبادت گاہ لبرانگ میں حالات بظاہر پرسکون دکھائی دیے۔ لیکن ایک تبتی بھگشو نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر تبتی اپنے نئے سال کی خوشی نہیں منارہے۔
دنیا بھر میں آباد تبتی باشندوں نے اس اپیل پر عمل کرتے ہوئے نئے سال کے پہلے دن کی تقریبات منانے کی بجائے مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تائیوان کی تبتی یوتھ کانگریس کے صدر تن زنگ گومپل نے دارالحکومت تائپے میں سرکاری دفاتر کے باہر 12 گھنٹوں کی بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔
گذشتہ ایک سال کے دوران اپنے مذہب اور ثفافت کو دبانے کی چینی حکومت کی کوششوں کے خلاف 20 سے زیادہ تبتی باشندے خود سوزی کرچکے ہیں۔
چین کے عہدے دار خود سوزی کو دہشت گردی کی ایک قسم قراردیتے ہیں۔ وہ دلائی لامہ اور دوسری غیر ملکی تنظیموں پر یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ وہ چینی حکام کے خلاف تشدد کو ہوادے رہی ہیں۔
سیف علی خان کی گرفتاری اور رہائی
بالی ووڈ ایکٹر سیف علی خان کو ممبئی پولیس نے تشدد کے الزام میں گرفتار اور بعد ازاں ضمانت پر رہا کردیا۔ بدھ کی شام انہیں ممبئی کے کولابا پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا جہاں حاضری کے فوری بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا تاہم بعد میں تھانے میں ہی ضمانت پر انہیں رہا کردیا گیا۔
سیف علی خان پر الزام ہے کہ انہوں نے اقبال شرما نام کے ایک شہری کی گھونسہ مار کر ناک کی ہڈی توڑ ی ہے۔ اقبال شرما نے منگل کی شام تھانے میں شکایت درج کرائی تھی جس کے بعد پولیس نے سیف کے خلاف دفعہ 325اور 34کے تحت معاملہ درج کرلیا ۔ پولیس نے سیف علی خان کے دو دوستوں کو بھی شریک مجرم ٹھہرایا اور تینوں کو بدھ کی شام تھانے طلب کرلیا۔
بھارتی نژاد اقبال شرما پیشے کے اعتبار سے تاجر اور جنوبی افریقہ کے رہائشی ہیں۔منگل کی رات وہ ممبئی کے علاقے کولابا میں واقع تاج ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ تبھی انہیں برابر والی ٹیبل سے زور زور سے ہنسی مذاق کرنے کی آوازیں سنائیں دیں جو معمول سے زیادہ آواز میں تھیں۔ اس پر اقبال شرما نے برابر والی ٹیبل پر جاکر شور بند کرنے کا کہا ، جہاں سیف علی خان اپنے دو دوستوں کے ساتھ براجمان تھے۔
اقبال شرماکے اعتراض پر سیف علی خان غصے میں آگئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خاموشی چاہئے تو ریسٹورنٹ کے بجائے کسی لائبریری میں جاکر بیٹھیں۔ غیر متوقع اس جواب پر اقبال شرما کی سیف علی خان اور ان کے دوستوں سے تو تو میں میں ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بات ہاتھ پائی تک جاپہنچی۔
ہاتھ پائی کے دوران ہی اقبال کی ناک پر سیف علی خان کا ایک گھونسہ اتنے زور سے پڑا کہ ان کے ناک کی ہڈی ہی ٹوٹ گئی۔ تشدد کے بعد اقبال شرما نے کولابا پولیس اسٹیشن میں سیف علی خان کے خلاف رپورٹ درج کرادی ۔
ممبئی پولیس نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے ۔ پولیس نے سیف علی خان اور ان کے دو دوستوں کے خلاف کیس درج کرلیا۔اسسٹنٹ کمشنر پولیس اقبال شیخ کے مطابق سیف علی خان کو تفتیش کی غرض سے بدھ کو تھانے طلب کیا گیا جہاں انہیں حراست میں لے لیا گیا تاہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
سیف علی خان کو سن 2008ء میں بھی ایک فلم کے سیٹ پرپریس فوٹوگرافر سے جھگڑا کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ آخر کار یہ معاملہ ان کے معافی نامے کے بعد رفع دفع ہوا۔
تیل کمپنی کے چینی سربراہ جنوبی سوڈان سے ملک بدر
جنوبی سوڈان کی حکومت نے ملک کی سب سے بڑی غیر ملکی آئل کمپنی کے چینی سربراہ کو ملک بدر کردیا ہے جسے جنوبی سوڈان اور پڑوسی ملک سوڈان کے درمیان تیل کی ترسیل کے معاملے پر موجود اختلافات کی سنگینی کا ایک اور اظہار قرار دیا جارہا ہے۔
جنوبی سوڈان کے وزیرِ اطلاعات برنابا ماریل بینجمن نے بدھ کو ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ لی ینگ چائی جنوبی سوڈان کے لاکھوں بیرل تیل کی شمالی سوڈان کی جانب سے چوری میں شمال کی حکومت سے تعاون کر رہے تھے۔
مسٹر لی جنوبی سوڈان میں سرگرم سب سے بڑی غیر ملکی تیل کمپنی 'پیٹروڈار' کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے جو چین کی سرکاری کمپنی 'چائنا نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن (سی این پی سی) اور ملائیشیا کی قومی آئل کمپنی 'پیٹروناس' کی مشترکہ ملکیت ہے۔
جنوبی سوڈان کے حکام کا کہنا ہے کہ مسٹر لی کو پیر کو 72 گھنٹوں کے اندر ملک سے نکل جانے کا کہا گیا تھا۔
'وائس آف امریکہ' کی جانب سے ردِ عمل جاننے کے لیے 'پیٹروڈار' سے رابطہ کیا گیا تاہم کمپنی نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
لیکن 'پیٹروڈار'، جس کے اکثریتی حصص چینی حکومت کے پاس ہیں، خرطوم حکام کی جانب سے جنوبی سوڈان کے تیل کی مبینہ چوری میں اپنے ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔
واضح رہے کہ تیل کے ذخائر سے مالامال جنوبی سوڈان خشکی سے گھرا ملک ہے اور اسے اپنا تیل بیرونی دنیا تک پہنچانے کے لیے پڑوسی ملک سوڈان کی بندرگاہوں اور پائپ لائنوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
چین جنوبی سوڈان کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اس نے دونوں پڑوسی ممالک پر زور دیاہے کہ وہ تیل کی ترسیل کے تنازع کو پرامن طریقے سے حل کریں۔