Skip to Content

VOA

Syndicate content Voice of America
خبریں Voice of America
Updated: 1 min 41 sec ago

ارجنٹینا میں ٹرین حادثہ، 49 افراد ہلاک

1 hour 19 min ago

ارجنٹینا کے حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بیونس آئرس میں ایک مسافر ٹرین کو پیش آنے والے حادثے میں کم از کم 49 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق مسافروں سے کھچا کھچ بھری ٹرین شہر کے مصروف ترین ریلوے اسٹیشن 'ونس' سے رکے بغیر آگے نکل گئی اور پٹری کے اختتام پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں سے جا ٹکرائی۔

ریل میں سوار مسافروں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ بظاہر ریل کے بریک  فیل ہوگئے تھے۔ امدادی اہلکاروں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر بوگیوں میں پھنسے مسافروں کو باہر نکالا اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں کم از کم 550 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔

جائے حادثہ پر موجود حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹرین جب پٹری کے اختتام پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں  سے ٹکرائی تو اس کی رفتار 20 سے 30 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین کی رفتار اس قدر تیز تھی کہ رکاوٹوں سے ٹکرانے کے بعد ٹرین کی ایک بوگی آگے والی بوگی میں چھ میٹر تک جا گھسی۔

حادثہ صبح اس وقت پیش آیا جب مشرقی نواحی علاقوں سے شہر میں واقع دفاتر جانے والے مسافروں کی بڑی تعداد ٹرین میں سوار تھی۔

حکام نے اسے گزشتہ 30 برسوں میں ملک کا بدترین ریل حادثہ قرار دیا ہے۔

Categories: Latest News

امریکی اخبارات سے: پیٹرول کی قیمتیں

1 hour 26 min ago

’کرسچن سائینس مانٹر‘ کہتا ہےکہ پٹرولیم مصنوعات  کے بڑھتےہوئےدام صدراوباما کےدوبارہ منتخب ہونے  کے امکانات پرایک حد تک اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں ایسا ہواہے کہ اس طرح یہ دام بڑھے تو برسر ِاقتدا صدر انتخاب ہار گیا۔ چنانچہ، اخبار کہتا ہے کہ مسٹر اوباما کو دام  بڑھ جانے پر  اُتنی ہی تشویش ہےجتنی  پٹرول کے عام صارفین  کو ۔ وجہ یہ ہے  کہ جیسے جیسے دام بڑھتےہیں صدر کی مقبولیت  میں اسی قدرکمی آجاتی ہے۔

خبارکہتا ہے کہ منگل کے روز امریکہ میں پٹرول  کی اوسط قیمت ساڑھے  تین ڈالر فی  گیلن  سے ذرا زیادہ تھی  ۔ یعنی ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں چھ سینٹ زیادہ اور ایک ماہ قبل کے مقابلے میں 19  سینٹ زیادہ ۔منگل ہی کے دن تیل کے  فی بیرل قیمت میں ڈھائی ڈالر اضافہ ہوا اور ایک بیرل 106 ڈالر  کا   ہوگیا۔

ایران کی جوہری  تنصیبات  پر ممکنہ اسرائیلی حملے کی وجہ سےتیل کی منڈیوں میں سراسیمگی  بڑھتی جا رہی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ  فی بیرل تیل  میں ایک ڈالر  کا اضافہ ہو جائےتو امریکہ  میں  پٹرول کے دام تقریباً ڈھائی   سینٹ فی گیلن بڑھ جاتے ہیں۔ اور ظاہر ہے  کہ صدر اوباما کےلئے پٹرول کی قیمت میں اضافہ اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ اس سے معیشت پر منفی اثر مرتّب ہو سکتا ہے۔ کیونکہ، ماہرین کی رائے  کےمطابق اگر قیمت فی گیلن  چار  ڈالر سے بڑھ گئی تو  اس سے معیشت  سُست پڑ جائے گی۔ جو صدر  کے دوبارہ منتخب  ہونے  کے امکانات  پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ریپبلکن صدارتی  نامزدگی دوڑ میں اب جو چار امّید وارباقی  رہ گئے ہیں ۔  اُن میں میساچوسیٹس  کے سابق گورنر مِٹ رامنی ، سابق سینیٹر رِک سینٹورم ، سابق  سپیکر  نُیوٹ گِنگرِچ اور  رُکن کانگریس ران پال   ہیں، جِن کے درمیان  سخت مقابلہ جاری ہے اور جیسا کہ اخبار ’اری زونا ری پبلک‘ کہتاہے، اس مقابلے کی شدّت بڑھتی ہی جارہی ہے، جِس میں اب تک سبقت لے جانے والے امیدوار مٹ رامنی کے لئے آنے والااختتام ہفتہ  خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے،کیونکہ انہوں نے مشی گن  کی پرائمری  میں کامیابی کو اپنے لئے انتہائی لازمی قرار دیاہے۔ اخبار کا اندازہ ہے کہ اگر وہ وہاں ناکام ہو گئے یا اری زونا ریاست میں ڈگمگا گئے،جہاں رائے عامّہ  میں  ان کی سبقت گر گئی ہے ۔تو پھر اس دوڑ میں  اُن کا برقرار رہنا ایک سوالیہ نِشا ن بن کر رہ جائے گا۔

اس پر ’شکاگو ٹریبیون‘ کے تجزیہ کار بِل پریس کا کہنا ہے کہ مشی گن کے  تازہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق    مٹ رامنی پر سابق سینیٹر رک سینٹورم سبقت لے گئے  ہیں جِس پر  ان کا سوال ہے کہ کیا ری پبلکن ،  سینٹورم کو اپنا  صدارتی امید وار چننے میں سنجیدہ ہیں۔کیونکہ، ان کی دانست میں وہ نیوٹ گِنگرچ سے بھی بدتر امّید وار ثابت ہونگے ۔  رک سینٹورم بیشتر حلقوں میں خاندانی  منصوبہ  بندی  کی سخت مخالفت کرنے  پر وجہ نزاع بنے ہوئے ہیں  اور ملک  کو درپیش روزگار ، صحت ، تعلیم اور  امیگریشن    جیسے مسائیل چھوڑ کر سینٹورم کی  خطابت کا سارا زور  خاندانی منصوبہ بندی کی مخالفت پر  ہوتا ہے۔ اور بل پریس  کا سوال ہے  کہ آیا وُہ صدر کے عُہدے یا  پاپائے روم کے عُہدے کا انتخاب  لڑ رہے ہیں۔

   اخبار ’پٹس برگ  پوسٹ گزیٹ‘  کہتا ہے کہ یمن  میں جو نیا صدر آیا ہے وہ کسی تبدیلی کا نقیب نہیں ہوگا۔

 ہوا یہ ہے کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح طبی علاج کے  لئے امریکہ میں  ہیں اور  وہ یہیں رہیں گے اس سے قبل  وہ 33 سال بر سر اقتدار رہے اور  ان کا شمار دنیا کے خبیثوں  میں ہوتا ہے اور جہاں تک  اپنے عوام   پر تشدّد  اور ظلم ڈھانے کا تعلّق ہے تو ان  کا موازنہ یا تو زمبابوے کے رابرٹ موگابے سے یا  شام کے بشارالاسد سے ہی  ہوسکتا ہے۔

  اخبار کہتا ہے کہ  ان کی  جانشین حکومت  ان سے  مختلف نہیں ہو سکتی۔  کہنے کو تو نائب صدر  عبد  الرّبو منصور  ہادی  منگل کے انتخاب میں چنے گئے، جو  سننے  میں تو اچھا لگتا ہے  لیکن  حقیقت یہ ہے کہ وہ واحد امّید وار تھے جن کا انتخاب خود مسٹر صالح نے کیا تھا۔

اخبارکہتا ہے کہ یمن کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تشدّد کے لئے ہمہ تن تیار  جتھوں میں  بٹی ہوئی ہے۔ دُشمنی شمالی اور جُنوبی یمن  کے مابین بمعہ اپے دارالحکومتوں  یعنی  صناع  اور عدن کے برقرار ہے اس میں  سُنّی اور شیعہ مسلمان  ایک دوسرے  سے دست و گریبان ہیں اور  اس کے ساتھ ساتھ انتہا پسند اور  اعتدال پسند دونوں   وہاں موجود  ہیں۔ اوسامہ بن لادن کے خاندان کا تعلّق  یمن سے تھا اور سنہ 2000 میں امریکی بحری جہاز یو ایس ایس  کول پر عدن ہی کی بندر گاہ سے حملہ ہوا تھا۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

 

 

Categories: Latest News

چین اور ترکی کے درمیان تعاون بڑھانے کے معاہدات

3 hours 35 min ago

ایشیا کی دو ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں ترکی اور چین نے باہمی تجارت اور تعاون میں اضافے کے دو نئے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

معاہدوں پر دستخط کی تقریب بدھ کو انقرہ میں منعقد ہوئی جس میں ترکی کے دورے پر موجود چین کے نائب صدر زی جن پنگ بھی شریک تھے۔

معاہدوں کے تحت دونوں ممالک کی کمپنیاں ایک ارب 40 کروڑ ڈالرز کا معاشی تعاون کریں گی جب کہ دو طرفہ تجارت کو آئندہ تین برس تک مقامی کرنسیوں  میں کیا جائے گا جس کی مالیت ایک  ارب60 کروڑ ڈالرز بنتی ہے۔

واضح رہے کہ چین اور ترکی کے درمیان باہمی تجارت کا حجم گزشتہ 10 برسوں کے دوران میں 24 ارب ڈالرز سالانہ تک جاپہنچا ہے لیکن اس کا زیادہ تر حصہ چینی برآمدات پر مشتمل ہے۔

ترک حکام باہمی تجارت میں موجود اس عدم توازن کے خاتمے کے خواہاں ہیں اور اپنے ملک میں چین کی جانب سے مزید سرمایہ کاری، چینی سیاحوں کی ترکی آمد اور دیگر مقامات بشمول افریقہ کے مختلف منصوبوں میں چین اور ترکی کی مشترکہ سرمایہ کاری کا تقاضا کر رہے ہیں۔

اپنے دورے میں باہمی تعاون میں اضافے کے معاہدوں کے علاوہ چینی رہنما نے ترک قیادت سے اپنی ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے دیگر امور اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

تاہم چینی نائب صدر کے دورے کے دوران میں طرفین نے باہم متنازع امور پرگفتگو سے گریز کیا جن میں سب سے اہم معاملہ چینی حکام کی جانب سے صوبہ سنکیانگ میں ترک نسل سے تعلق رکھنے والی اقلیتی ایغور آبادی کے خلاف جاری کاروائیاں ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان شام میں جاری سیاسی بحران کے حل کے طریقہ کار پر بھی سنگین اختلافات موجود ہیں۔

Categories: Latest News

روس کے صدارتی امیدوار

3 hours 38 min ago

ولادی میر پوٹن:

پوٹن 2000ء سے 2008ء تک روس کے صدر رہ چکے ہیں اوراس وقت وزیراعظم کے طورپر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ یونائیٹڈ رشیہ پارٹی کے ٹکٹ پر صدارتی انتخاب لڑ رہے ہیں ۔ روس کے متوسط طبقے میں ان کی مقبولیت کا گراف مسلسل گر رہاہے لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ وہ مارچ کا الیکشن جیت جائیں گے۔

 

میخائل پروخروف:

میخائل کا شمار روس کے تین امیرترین افراد میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایک آزاد امیدوار کے طورپر صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ کاروباری حقوق کی نگہبانی کرنے والی ایک تنظیم میں شامل رہ چکے ہیں۔ وہ خود کو متوسط طبقے کے ایک نمائندے کے طورپر پیش کررہے ہیں۔ میخائل موجودہ حکومت کی بدعنوانی اور بیورکریسی کے بے پناہ غرورو تکبر  پرشدید ناقد ہیں۔

 

گرینڈے زیوگانوف:

زیوگانوف کاتعلق کمیونسٹ پارٹی سے ہے اور وہ 1996ء کے بعد سے چوتھی مرتبہ صدارتی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ مبصربین کا خیال ہے کہ ان کا پٹن کے سخت مقابلہ ہوگا اور وہ دوسرے نمبر پر رہ سکتے ہیں۔ انہوں نےاپنے انتخابی منشور میں ریاستی وسائل کو قومی ملکیت میں لے کر سماجی بہبود کے پروگراموں میں اضافے کے ذریعے ملک کے استحکام میں اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

 

سرگئی میرونوف:

میرونوف ، جسٹ رشیہ پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار ہیں۔ وہ ملک میں سماجی جمہوری سیاسی نظام قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ روس اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات  اور شراکت داری کے حامی ہیں۔

 

ولادی میر زیرینوسکی :

ولادی میر  لبرل ڈیموکریٹک پارٹی آف رشیہ کے بانی ہے اور 1991ء کے بعد سے پانچویں بار صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہ اپنے بے لاگ تبصروں اور بیانات کی بنا پر شہرت رکھتے ہیں۔ قوم پرستی کے زبردست حامی اور امریکی عمل دخل کے خلاف ہیں۔

Categories: Latest News

صومالیہ کے ایک اہم قصبے پر سرکاری فورسز کا قبضہ

3 hours 41 min ago

ایتھوپیا اور صومالیہ کی فورسز نے ملک کے جنوب مغربی حصے میں واقع ایک اہم قصبے سے عسکریت پسند تنظیم الشباب کے جنگجوؤں کو نکال کر اس پر قبضہ کرلیا ہے۔

عینی شاہدوں نے وائس آف امریکہ کی صومالی سروس کو بتایا کہ سرکاری فوجیوں نے  بدھ کے روز الشباب کے عسکریت پسندوں کے  قصبے بائیدوا سے نکل جانے کے بعد اس پر کسی لڑائی کے بغیر قبضہ کرلیا۔

یہ قصبہ 2009ء میں الشباب کے قبضے سے قبل صومالیہ کی عبوری حکومت  کا ایک اہم مرکز تھا۔

ایتھوپیا ، کینیا اور افریقی یونین کی فورسز الشباب کے خلاف لڑائی میں صومالی حکومت کی مدد کررہی ہیں۔

عسکریت پسند تنظیم الشیاب نے ، جو القاعدہ کے ساتھ الحاق کرچکی ہے، 2007ء سے حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں سخت اسلامی قوانین کے نقاذ کی کوششیں کررہی ہے۔

الشباب کے قصبے میں وسطی اور جنوبی صومالیہ کے کئی علاقے ہیں ، لیکن حالیہ کچھ عرصے میں اسے دارالحکومت موگادیشو اور مرکزی شہر بلیدوین اور کئی دوسرے علاقے ان کے قبضے سے  نکل چکے ہیں۔

بائیدواپر قبضہ لندن میں صومالیہ کے مستقبل پرمجوزہ بین الاقوامی کانفرنس سے ایک روز قبل ہوا ہے۔ اس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سمیت بہت سے عہدے دار شریک ہورہے ہیں۔

Categories: Latest News

بلوچستان پر امریکی قرارداد کے حامی ہیں: برہمداغ بگٹی

3 hours 44 min ago

بلوچ ری پبلیکن پارٹی کے سربراہ نواب زادہ برہمداغ بگٹی نے امریکہ کے ایوان زیریں میں بلوچستان سے متعلق جمع کرائی جانے والی قرارداد کا خیرمقدم کیاہے۔

بدھ کے روز کوئٹہ میں سوئزرلینڈ سےایک ٹیلیفونک کانفرنس میں انہوں نے  حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بلوچستان پیکیج کو مسترد کردیا۔ انہوں نے بلوچستان مسئلے کے حل سے متعلق مجوزہ   آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے بارے میں یہ کہا ہے کہ اے پی سی اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔

 انہوں نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور دوسرے راہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر بلوچ قوم پرستوں کی تحریک میں شامل ہوجائیں۔

برہمداغ بگٹی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس بلانا فہم سے بالاتر ہے۔ کیونکہ ایک جانب بلوچوں کی نعشیں ان کے حوالے کی جارہی ہیں اور دوسری طرف حکمران کانفرنس کی باتیں کررہے ہیں۔

بلوچ راہنمانے حکومت پر  تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا کو ڈیرہ بگٹی اور صوبے کے دیگر علاقوں تک رسائی فراہم نہیں کررہے۔

پاکستان کی حکومت اور قومی دھارے کی سیاسی جماعتیں  بلوچستان پر امریکی ایوان زیریں میں پیش کی جانے والی قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کے اندونی معاملات میں مداخلت قرار دے چکی ہیں۔

Categories: Latest News

انڈونیشیا: مزوروں کی بے چینی سے غیرملکی سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ

3 hours 48 min ago

انڈونیشیا کا شمار ایسے ایشیائی ممالک میں ہوتا ہے جہاں کارکنوں کی تنخواہیں بہت کم ہیں جس کے باعث اس ملک میں ان غیر ملکی کمپنیوں کے لیے دلچسپی بڑھ رہی ہے جو چین اورخطے کے دوسرے ممالک میں کارکنوں کے بڑھتے ہوئے معاوضوں پر پریشان ہیں۔

جکارتہ  میں ایک مزور کا کم ازکم معاوضہ 170 ڈالر مہینہ ہے جو کہ شنگھائی کے 240 ڈالر فی مہینہ کے مقابلے میں نمایاں طورپر زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ  انڈونیشیا کی معیشت ترقی کررہی ہے اور گذشتہ سال مصنوعات تیار کرنے والوں اور برآمد کندگان نے ریکارڈ منافع کمایا تھا۔ جب کہ مزور تنظیموں نے اس منافع کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے حصے میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

گذشتہ سال جنوری میں کئی مہینوں تک اپنے معاوضوں میں اضافے کے مطالبے کے بعد جکارتہ کے مضافات میں واقع صنعتی اداروں کے 20 ہزار سے زیادہ مزوروں نے ہڑتال کرکے کئی کاروباروں کو بند کروادیاتھا۔

جس کے بعد حکومت اور انڈونیشیا میں روزگار فراہم کرنے والوں کی تنظیم نے مزوروں کی تنخواہوں میں 15 فی صد  اضافے پر اتفاق کرلیاتھا۔

مزوروں کی تنظیمیں اب برطرف کیے جانے والے ملازموں سے متعلق بھاری معاوضوں کی ادائیگی کے 2003ء  قانون پر بھی دوبارہ گفت وشنید کا مطالبہ کررہی ہیں ۔ کیونکہ اکثر کمپنیاں اس قانون کی زد میں آنے سے بچنے کے لیے زیادہ تر افراد کو مستقل ملازمتیں دینے کی بجائے کنٹریکٹ آفر کرتی ہیں۔

مزور راہنماؤں کا کہناہے کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ 2003ء کے بعد سے مستقل ملازمین کی تعداد میں نمایاں کمی آچکی ہے۔

حکومتی عہدے دار مزوروں سے متعلق قوانین پر بات چیت کرتے رہے ہیں لیکن حالیہ ہفتوں میں یہ سلسلہ ٹوٹ جانے کے بعد اب قانون سازوں کا کہناہے کہ ان کا مذکورہ قانون پر نظرثانی کااب کوئی ارادہ نہیں ہے۔

جب کہ مزور تنظیموں کے  ایک طاقت ور اتحاد نے  دھمکی دی ہے کہ وہ اصلاحات کے نفاذ تک مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

جب کہ ایک مزور راہنما حسن الدین ان مظاہروں  کے  غیر ملکی سرمایہ کاروں پر ممکنہ اثرات سے خائف ہیں۔ حالیہ مہینوں میں جاپانی اور جنوبی کوریا کی کمپنیوں نے انڈونیشیا کی حکومت سے یہ شکایت کی ہے حالیہ ہنگاموں کے باعث ان کے کاروباروں کا شدید نقصان پہنچا ہے۔

حسن الدین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ وہ اس سلسلے میں پیش رفت  پر سنجیدہ ہے۔ لیکن ابھی ایسے آثار بہت کم ہیں کہ گفت وشنید کی معاہدے پر پہنچنے والی ہے اور مزوروں کا احتجاج جاری رہنے کا امکان  بدستور موجود ہے۔

Categories: Latest News

چین: نئے تبتی سال کے موقع پر سیکیورٹی میں اضافہ

3 hours 51 min ago

چین کے شمال مشرقی صوبے کے تبتی باشندوں نے بدھ کے روز اپنے نئے سال کا آغاز روایتی تقریبات سے کیا۔ یہ تقریبات ایک ایسے موقع پر ہورہی ہیں جب چین کے اقتدار کے خلاف تبتی باشندے احتجاج  اور خود سوزیاں کرتے رہے ہیں۔

چین کی حکومت نے علاقے میں سیکیورٹی سخت کرکے کچھ متاثرہ علاقوں کے ساتھ مواصلاتی رابطے کاٹ دیے ہیں تاکہ نئے سال کی تقریبات کے موقع پر مظاہروں کو روکا جاسکے۔

سخت سیکیورٹی اقدامات کے پیش نظر بھارت میں قائم  جلاوطن تبتی حکومت کے وزیر اعظم لوبسانگ سانگے نے تبتی باشندوں پر زور دیاہے کہ وہ اپنے نئےسال کی تقریبات نہ منائیں بلکہ اس کی بجائے چینی اقتدار کے تحت زندگی بسر کرنے والوں کے حق میں دعائیں کریں۔

منگل کے روز صوبے گانسو کی بودھ عبادت گاہ لبرانگ میں حالات بظاہر پرسکون دکھائی دیے۔ لیکن ایک تبتی بھگشو نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر تبتی اپنے نئے سال کی خوشی نہیں منارہے۔

دنیا بھر میں آباد تبتی باشندوں نے  اس اپیل پر عمل کرتے ہوئے نئے سال کے پہلے دن کی تقریبات منانے کی بجائے مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تائیوان کی تبتی یوتھ کانگریس کے صدر تن زنگ گومپل نے دارالحکومت تائپے میں سرکاری دفاتر کے باہر 12 گھنٹوں کی بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔

 گذشتہ ایک سال کے دوران اپنے مذہب اور ثفافت کو دبانے کی چینی حکومت کی کوششوں کے خلاف 20 سے زیادہ تبتی باشندے خود سوزی کرچکے ہیں۔

چین کے عہدے دار خود سوزی کو دہشت گردی کی ایک قسم قراردیتے ہیں۔ وہ دلائی لامہ اور دوسری غیر ملکی تنظیموں پر یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ وہ چینی حکام کے خلاف تشدد کو ہوادے رہی ہیں۔

Categories: Latest News

سیف علی خان کی گرفتاری اور رہائی

3 hours 54 min ago

بالی ووڈ ایکٹر سیف علی خان کو ممبئی پولیس نے تشدد کے الزام میں گرفتار اور بعد ازاں ضمانت پر رہا کردیا۔ بدھ کی شام انہیں ممبئی کے کولابا پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا جہاں حاضری کے فوری بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا تاہم بعد میں تھانے میں ہی ضمانت پر انہیں رہا کردیا گیا۔

سیف علی خان پر الزام ہے کہ انہوں نے اقبال شرما نام کے ایک شہری کی گھونسہ مار کر ناک کی ہڈی توڑ ی ہے۔ اقبال شرما نے منگل کی شام تھانے میں شکایت درج کرائی تھی جس کے بعد پولیس نے سیف کے خلاف دفعہ 325اور 34کے تحت معاملہ درج کرلیا ۔ پولیس نے سیف علی خان کے دو دوستوں کو بھی شریک مجرم ٹھہرایا اور تینوں کو بدھ کی شام تھانے طلب کرلیا۔

بھارتی نژاد اقبال شرما پیشے کے اعتبار سے تاجر اور جنوبی افریقہ کے رہائشی ہیں۔منگل کی رات وہ ممبئی کے علاقے کولابا میں واقع تاج ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ تبھی انہیں برابر والی ٹیبل سے زور زور سے ہنسی مذاق کرنے کی آوازیں سنائیں دیں جو معمول سے زیادہ آواز میں تھیں۔ اس پر اقبال شرما نے برابر والی ٹیبل پر جاکر شور بند کرنے کا کہا ، جہاں  سیف علی خان اپنے دو دوستوں کے ساتھ براجمان تھے۔

اقبال شرماکے اعتراض پر سیف علی خان غصے میں آگئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خاموشی چاہئے تو ریسٹورنٹ کے بجائے کسی لائبریری میں جاکر بیٹھیں۔ غیر متوقع اس جواب پر اقبال شرما کی سیف علی خان اور ان کے دوستوں سے تو تو میں میں ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بات ہاتھ پائی تک جاپہنچی۔

ہاتھ پائی کے دوران ہی اقبال کی ناک پر سیف علی خان کا ایک گھونسہ اتنے زور سے پڑا کہ ان کے ناک کی ہڈی ہی ٹوٹ گئی۔ تشدد کے بعد اقبال شرما نے کولابا پولیس اسٹیشن میں سیف علی خان کے خلاف رپورٹ درج کرادی ۔

ممبئی پولیس نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے ۔ پولیس نے سیف علی خان اور ان کے دو دوستوں کے خلاف کیس درج کرلیا۔اسسٹنٹ کمشنر پولیس اقبال شیخ کے مطابق سیف علی خان کو تفتیش کی غرض سے بدھ کو تھانے طلب کیا گیا جہاں انہیں حراست میں لے لیا گیا تاہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

سیف علی خان کو سن 2008ء میں بھی ایک فلم کے سیٹ پرپریس فوٹوگرافر سے جھگڑا کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ آخر کار یہ معاملہ ان کے معافی نامے کے بعد رفع دفع ہوا۔

Categories: Latest News

تیل کمپنی کے چینی سربراہ جنوبی سوڈان سے ملک بدر

4 hours 17 min ago

جنوبی سوڈان کی حکومت نے ملک کی سب سے بڑی غیر ملکی آئل کمپنی کے چینی سربراہ کو ملک بدر کردیا ہے جسے جنوبی سوڈان اور پڑوسی ملک سوڈان کے درمیان تیل کی ترسیل کے معاملے پر موجود اختلافات کی سنگینی کا ایک اور اظہار قرار دیا جارہا ہے۔

جنوبی سوڈان کے وزیرِ اطلاعات برنابا ماریل بینجمن نے بدھ کو ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ لی ینگ چائی جنوبی سوڈان کے لاکھوں بیرل تیل کی شمالی سوڈان کی جانب سے چوری میں شمال کی حکومت سے تعاون کر رہے تھے۔

مسٹر لی جنوبی سوڈان میں سرگرم سب سے بڑی غیر ملکی تیل کمپنی 'پیٹروڈار' کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے جو چین کی سرکاری کمپنی 'چائنا نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن (سی این پی سی) اور ملائیشیا کی قومی آئل کمپنی 'پیٹروناس' کی مشترکہ ملکیت ہے۔

جنوبی سوڈان کے حکام کا کہنا ہے کہ مسٹر لی کو پیر کو 72 گھنٹوں کے اندر ملک سے نکل جانے کا کہا گیا تھا۔

'وائس آف امریکہ' کی جانب سے ردِ عمل جاننے کے لیے 'پیٹروڈار' سے رابطہ کیا گیا تاہم کمپنی نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

لیکن 'پیٹروڈار'، جس کے اکثریتی حصص چینی حکومت کے پاس ہیں، خرطوم حکام کی جانب سے جنوبی سوڈان کے تیل کی مبینہ چوری میں اپنے ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔

واضح رہے کہ تیل کے ذخائر سے مالامال جنوبی سوڈان خشکی سے گھرا ملک ہے اور اسے اپنا تیل بیرونی دنیا تک پہنچانے کے لیے پڑوسی ملک سوڈان کی بندرگاہوں اور پائپ لائنوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

چین جنوبی سوڈان کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اس نے دونوں پڑوسی ممالک پر زور دیاہے کہ وہ تیل کی ترسیل کے تنازع کو پرامن طریقے سے حل کریں۔

Categories: Latest News

لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا احتجاج

7 hours 9 min ago

’’لاپتہ افراد‘‘ کی بازیابی کے لیے اُن کے رشتہ داروں نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں ان دنوں پارلیمان اور سپریم کورٹ کی عمارتوں سے چند سو گز کے فاصلے پر گزشتہ کئی روز سے احتجاجی کیمپ لگا رکھا ہے۔

سخت سردی کے باوجود لاپتہ افراد کے یہ رشتہ دار دن رات اس کیمپ میں بسیرا کیے ہوئے ہیں جب کہ اُن سے اظہار ہمدردی کے لیے سیاسی جماعتوں کے رہمنا بھی وقتاً فوقتاً احتجاجی کیمپ کا دورہ کر رہے ہیں۔

اس احتجاجی کیمپ کے منتظمین میں آمنہ مسعود جنجوعہ بھی شامل ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ اُن کے خاوند کو جولائی 2005ء میں فوج کے خفیہ اداروں نے گرفتار کر لیا تھا اور تاحال اُن کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔

<!--IMAGE-RIGHT-->

’’سپریم کورٹ ہر لاپتہ فرد کو عدالت میں پیش کرنے کے احکامات دے سکتی ہے، تو وہ یہ آئینی حق استعمال کرے اس سے پہلے کہ لاشیں ہمارے حوالے کی جائیں۔‘‘

سماجی کارکن فرزانہ باری کہتی ہیں کہ لاپتہ افراد میں بڑی تعداد اُن بلوچ قوم پرستوں کی ہے جو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے جہد و جہد کر رہے ہیں۔

’’بجائے اس کے کہ ہم لوگوں کے حقیقی مسائل کو حل کریں، اگر ہم زور زبردستی اور طاقت کے ذریعے سے ان کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں تو میں سمجھتی ہوں کہ یہ ملک کے اپنے استحکام اور سالمیت  کے لیے بھی ایک خطرہ ہے‘‘۔

<!--IMAGE-RIGHT-->

ناقدین کا ماننا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین جرائم سے متعلق قوانین میں بعض کمزوریاں خفیہ اور تحقیقاتی اداروں کو مشتبہ افراد کو غیر قانونی تحویل میں رکھنے کا بظاہر جواز فراہم کرتی ہیں کیوں کہ ایسے افراد پر چلائے گئے مقدموں میں جرم ثابت ہونے کی شرح انتہائی کم ہے کیوں عدالتیں ناکافی شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو بری کر دیتی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ قوانین کو موثر بنانے کی ذمہ داری پارلیمان پر عائد ہوتی ہے جو اُن کے بقول اس سلسلے میں خاطر خواہ پیش رفت کا مظاہرہ نہیں کر سکی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کو زیادہ بااختیار بنانے سے متعلق آئینی مسودہ طویل عرصے سے پارلیمان کی قائمہ کمیٹی میں زیر بحث ہے۔

تاہم اس ہی دوران مذہبی پارٹی جماعت اسلامی نے سینیٹ میں ایک بل متعارف کرایا ہے جس میں مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیے بغیر اُنھیں تفتیش کی غرض سے تحویل میں رکھنے کی میعاد کو تین ماہ سے کم کر کے ایک ماہ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

پارلیمان میں جہاں اس بل کی حمایت کی جا رہی ہے وہیں بعض اراکین کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی تبدیلی کرنے سے دہشت گرد اور انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

حکمران اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو خودکش بیلٹ باندھ کر امام بارگاہ میں، مزار میں چلا یا کسی کے گھر میں چلا جاتا ہے وہ اکیلا نہیں ہوتا، اس کے پیچھے پوری دہشت گرد تنظیم ہوتی ہے، اس کو ڈھونڈنے کے لیے ہمارے خفیہ اداروں، پولیس، ایف آئی اے کو وقت چاہیئے ہوتا ہے۔‘‘

پیپلز پارٹی حکومت کا موقف ہے کہ زیادہ تر افراد سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں لاپتہ ہوئے، لیکن وہ ان کی بازیابی کے لیے پر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد سے متعلق تمام دعوے سچائی پر مبنی نہیں۔

<!--IMAGE-LEFT-->

’’اگر وہ زندہ اور گرفتار ہیں تو یقیناً ہم اُن کو بازیاب کرائیں گے لیکن اگر وہ خود ہی جنگ میں چلے گئے ہیں یا افغانستان میں جا کر لڑائی کر رہے ہیں یا کسی کے لیے کام کر رہے ہیں اور اس عرصے میں وہ کہیں مارے گئے ہیٕں تو میرا خیال ہے کہ اُس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔‘‘

پاکستان کی سپریم کورٹ میں بھی لاپتہ افراد سے متعلق مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے جب کہ عدالت عظمیٰ کے سابق جج جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمییشن بھی اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

Categories: Latest News

شام میں دو غیر ملکی صحافیوں سمیت 19 افراد ہلاک

8 hours 14 min ago

شام میں گزشتہ 10 ماہ سے جاری احتجاجی تحریک کے گڑھ حمص پر سرکاری افواج کی بےرحمانہ بمباری کے نتیجے میں بدھ کو دو مغربی صحافیوں سمیت کم از کم 19 افراد ہلاک ہوگئے۔

شام میں سرکاری افواج کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ وہ ادارے سے منسلک امدادی سرگرمیوں کے اعلیٰ ترین عہدیدارویلیری اموس  کو شام بھیجنا چاہتا ہے تاکہ امدادی اہلکاروں کے لیے مستحقین تک ہنگامی امداد پہنچانے کی اجازت حاصل کی جاسکے۔

لیکن فرانس کے دارالحکومت پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شامی حزبِ اختلاف کے ایک اہم اتحاد کے رہنماؤں نے شام میں جاری لڑائی میں پھنسے افراد تک امداد کی فراہمی یقینی بنانے کا واحد راستہ غیر ملکی فوجی مداخلت کو قرار دیا ہے۔

دریں اثنا، فرانسیسی حکومت نے شامی افواج کی بمباری سے ہلاک ہونے والے دونوں صحافیوں کی شناخت ظاہر کردی ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق ہلاک شدگان میں جنگوں کی رپورٹنگ کے لیے مشہور امریکی صحافی میری کالوین بھی شامل ہیں جو برطانوی اخبار ’سنڈے ٹائمز‘ کے لیے کام کرتی تھیں۔

حمص میں ہلاک ہونے والے دوسرے صحافی فرانسیسی فوٹو گرافر ریمی اوکلک ہیں جو ضلع حمص میں باغیوں کے زیرِ انتظام علاقے بابا امر میں قائم کیے گئے ایک عارضی میڈیا کیمپ پر سرکاری افواج کی بمباری سے ہلاک ہوئے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کیمپ پر حملے میں کئی صحافی زخمی بھی ہوئے ہیں لیکن اس بارے میں تاحال تفصیلات معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔

پیرس میں قائم صحافیوں کے حقوق کی تنظیم 'رپورٹرز وِد آئوٹ بارڈرز' کے نمائندوں نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا ہے کہ وہ اس امکان کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کیا شامی افواج نے جان بوجھ کر ذرائع ابلاغ کے کیمپ کو نشانہ بنایا۔

ادھر شامی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکام کو ان صحافیوں کی شام میں موجودگی کا علم نہیں تھا۔

واضح رہے کہ سیاسی بحران کے آغاز کے بعد سے شامی حکومت نے ملک میں غیر ملکی صحافیوں کا داخلہ محدود کردیا ہے اور ان  کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

صحافیوں کی ہلاکت پر فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کی سربراہی میں قائم شامی حکومت کے خاتمے کا وقت آن پہنچا ہے۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ آلاں ژوپے نے صحافیوں کی ہلاکت کو "قتل" قرار دیا ہے جب کہ امریکی محکمہ خارجہ نے ان ہلاکتوں کو "شامی حکومت کی بےشرم مظالم کی ایک اور مثال" گردانتے ہوئے ان کی سخت مذمت کی ہے۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل سرکاری افواج کے محاصرے کا شکار حمص شہر کے نواحی علاقے میں ایک نشانہ باز نے ایک معروف ویڈیو بلاگر رمی اسید کو بھی گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

دریں اثنا، برطانیہ میں قائم تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' نے کہا ہے کہ شام کے شمال مغربی صوبے اِدلب  کے ایک گاؤں 'افس' پر شامی افواج کے ہیلی کاپٹروں نے مشین گنوں سے فائرنگ کی ہے۔

اِدلب شامی افواج سے بغاوت کرکے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مسلح جدجہد کا راستہ اختیار کرنے والے  سابق فوجیوں کی تنظیم 'فری سیرین آرمی' کا اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق اور حزبِ اختلاف کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ شامی افواج کی بمباری اور دیگر پرتشدد کاروائیوں کے نتیجے میں منگل کو بھی اِدلب اور حمص میں کم از کم 63 افراد ہلاک  ہوگئے تھے۔

ہلاکتوں کے ان اعدادو شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔

امریکی شہری میری کالوین جو کہ برطانوی اخبار ’سنڈے ٹائمز‘ کے لیے کام کرتی تھیں اور ایک فرانسیسی فوٹو گرافر ریمی اوکلک بدھ کو ہونے والی بمباری میں ہلاک ہوئے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ 13 مزید افراد ہلاک جب کہ کئی صحافی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

 

Categories: Latest News

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی پریشان: رپورٹ

8 hours 36 min ago

پیٹرولیم مصنوعات کی تیل کی قیمتوں میں یکم فروری سے چھ فیصد تک اضافے کے عام آدمی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں ایک سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس  اضافے سے 91 فیصد افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔

ایک غیر سرکاری تحقیقاتی ادارے ’’گیلپ پاکستان‘‘ نے یہ سروے کرایا جس میں ملک کے چاروں صوبوں میں دیہی اور شہری آبادی میں سے لگ بھگ 2700 خواتین اور مردوں کی آرا حاصل کی گئی۔

گیلپ پاکستان کے مطابق سروے میں شامل افراد میں سے 63 فیصد کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیے اضافے نے ان کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے جب کہ 28 فیصد کا کہنا تھا کہ ان پر پڑنے والے اثرات درمیانی نوعیت کے تھے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں مشیر خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ  تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ بین الاقوامی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قمیت بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طالب علموں نے بھی ایک سروے کیا ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے براہ راست عام آدمی متاثر ہوتا ہے۔

’’میری اسٹڈی جو ہم نے اپنے اسٹوڈنٹس کے ذریعے سے کرائی ہے کہ دو ماہ کے اندر تمام ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں اور اس سے چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں چاہے وہ روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ہوں، سبزیاں ہوں، پھل ہوں اور باقی چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔‘‘

حکومت کا کہنا ہے کہ رواں سال کے مالی بجٹ میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس کی مد میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 120 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا لیکن گزشتہ چھ ماہ میں اس مدد میں صرف 20 ارب روپے ہی اکٹھے کیے جا سکے ہیں اس لیے یہ اضافہ ناگزیر تھا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے ”اوگرا“ نے یکم فروری کو پیٹرول سمیت تیل کی دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں چھ فیصد تک اضافہ کیا تھا۔ جس پر پارلیمان میں مختلف سیاسی جماعتوں بشمول حکمران اتحاد میں شامل پارٹیوں کے اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے یہ اضافہ واپس لینے کے حق میں قرارداد بھی منظور کی تھی۔

اس قرارداد پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے حکومت نے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دے رکھی ہے جس کا بدھ کو اسلام آباد میں ایک اجلاس بھی ہوا۔ سیکرٹری پیڑولیم نے کمیٹٰی کے ممبران کو بتایا کہ عالمی سطح پر تیل کی قمیتوں میں اضافے کے باعث پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

Categories: Latest News

کرزئی کی طالبان کو براہِ راست مذاکرات کی دعوت

11 hours 9 min ago

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے طالبان کی قیادت کو اپنی حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے پاکستان سے مذاکراتی عمل کی حمایت اور اس میں معاونت کرنے کی درخواست کی ہے۔

منگل کو کابل کے صدارتی دفتر سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں صدر کرزئی نے کہا ہے کہ وہ "قیامِ امن  کے عمل کے مقاصد کا ادراک کرتے ہوئے" طالبان راہنماؤں کو مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں۔

بیان میں افغان صدر کا کہنا ہے کہ امن کے عمل کا مقصد طالبان سمیت ان تمام افغانوں کو ملک میں پرامن زندگی کی طرف واپس لے جانا ہے جو، ان کے بقول، افغانستان کے سیاسی عمل میں شریک نہیں ہیں۔

صدر کرزئی نے بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں کی کامیابی کے لیے پاکستان کی حمایت انتہائی اہم ہوگی جس سے "افغانستان اور پورے خطے کی سلامتی اور استحکام" میں مدد ملے گی۔

دریں اثنا 'وائس آف امریکہ' کی اردو سروس سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں روپوش شدت پسند راہنماؤں کو قیامِ امن کے عمل میں حصہ لینے پر محبور کرکے طالبان کے ساتھ افغان حکومت کے مذاکرات میں مثبت کردار ادا کرے۔

Categories: Latest News

خیبرایجنسی: بم دھماکے میں دو ہلاک

11 hours 10 min ago

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں بدھ کی صبح ایک گھریلو ساخت بم دھماکے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

سکیورٹی حکام نے بتایا کہ سپن قدر کے علاقے میں یہ دھماکا اس وقت ہوا جب زمین میں نصب بم کو مقامی قبائلی وہاں سے ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔

<!--IMAGE-RIGHT-->


افغان سرحد سے ملحقہ خیبر ایجنسی میں حالیہ ہفتوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس قبائلی علاقے کی دور افتادہ وادی تیراہ میں موجود طالبان کے خلاف گزشتہ مقامی امن لشکر اور سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کی تھی۔

Categories: Latest News

نائیجیریا کوبوکو حرام کی طرف سے دباؤ کا سامنا

11 hours 14 min ago

نائیجیریا کی سکیورٹی فورسز نے شمال مشرقی شہر میڈوگوری کی ایک مقبول مارکیٹ میں پیر کو مسلح افراد کے حملے کے بعد سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ خیال ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق انتہاپسند اسلامی فرقے بوکو حرام سے تھا۔

نائیجیریا کی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے میں جب دونوں طرف سے گولیاں چلیں، تو اس نے آٹھ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ تاہم منگل کے روز بوکو حرام نے کہا کہ اس کا کوئی رکن ہلاک نہیں ہوا ہے۔

بوکو حرام کے ترجمان نے جنہیں ابوقوا کہا جاتا ہے، فون پر صحافیوں کو بتایا کہ مارکیٹ پر یہ حملہ تاجروں کے خلاف انتقامی کارروائی کے طور پر کیا گیا تھا کیوں کہ انھوں نے گزشتہ ہفتے بوکو حرام کے ایک مشتبہ رکن کو حکام کے حوالے کر دیا تھا۔

طبی ذرائع اور تاجروں نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 30 سویلین باشندے بھی ہلاک ہوگئے، اگرچہ نائیجیریا کی فوج نے سویلین ہلاکتوں سے انکار کیا ہے۔

مارکیٹ کے ایک تاجر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ عسکریت پسندوں نے ان پر دھماکہ خیز مواد اور خودکار اسلحہ سے حملہ کیا کیوں کہ گزشتہ جمعرات کو مارکیٹ کے دوکانداروں نے ان کے ایک رکن کو پکڑوانے میں مدد دی تھی۔

بہت سے بے گناہ لوگوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور اب وہ آئندہ سکیورٹی فورسز کی مدد نہیں کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالات کو ٹھیک کرے کیوں کہ اب سویلین باشندے تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف ابوجا میں عمرانیات کے سینیئر لیکچرر، ابوبکرعمر قاری کہتے ہیں کہ اب تک بوکو حرام گروپ اپنے مخالفین کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

’’فوری اثر یہ ہوا ہے کہ میڈوگوری میں اور دوسرے مقامات پر لوگ اب بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئے ہیں اور وہ اس فرقے کی سرگرمیوں کے بارے میں پولیس کو اطلاع دینے میں انتہائی محتاط ہیں کیوں کہ انہیں بڑی آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اور سکیورٹی فورسز ان کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کر سکتیں۔ مخبر اور دوسرے اچھے لوگ بھی جو اس فرقے کی سرگرمیوں سے تنگ آ چکے ہیں بالکل بے بس ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے سے مقامی لوگوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان بد اعتمادی میں بھی اور اضافہ ہو گیا ہے۔

’’میرے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ ان کی ٹریننگ کی خامی ہے یا ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ  قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کرتے۔  لیکن جب کبھی نائیجیریا کی سکیورٹی فورسز کا مسلح گروپوں سے  تصادم ہوتا ہے، وہ بس اندھا دھند گولیاں چلانا شروع کر دیتی ہیں‘‘۔

نائیجیریا کے ایک ریسرچر ایرک گیڈچکس ہیومن رائٹس واچ کے لیے بوکوحرام کے حملوں کے  رد عمل میں سکیورٹی فورسز کی زیادتیوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان میں ان بستیوں پر حملہ اور گھروں کو جلایا جانا شامل ہے جن پر بوکو حرام کے عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا شبہ ہوتا ہے۔

’’شہری بڑی مشکل میں ہیں کیوں کہ انھیں دونوں طرف سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بوکو حرام کی طرف سے اور سکیورٹی فورسز کی طرف سے  بھی۔ بنیادی بات یہ ہے کہ نائجیریا کی سکیورٹی فورسز کو ان حملوں کے جواب میں انسانی حقوق کی پوری طرح پابندی کرنی چاہیئے کیوں کہ اس قسم کے گروپ، مشتبہ ارکان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی زیادتیوں کو نئے لوگ بھرتی کرنے اور مزید حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ سکیورٹی سروسز کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انہیں کمیونٹیوں کا تعاون حاصل ہو‘‘۔

بوکو حرام کی طرف سے ملک کے شمال میں  تقریباً روزانہ فوج اور پولیس کے ٹھکانوں پر، نیز چرچوں اور مسجدوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ ابو میں مرکزی حکومت سکیورٹی کے خطرے کو کنٹرول کرنے کی جدو جہد کرتی رہی ہے۔

حوسہ زبان میں اس گروپ کے نام کا مطلب ہے، مغربی تعلیم گناہ ہے۔ یہ گروپ مملکت کے اختیار کو کمزور کرنا چاہتا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ شمالی نائجیریا میں شریعت یا اسلامی قانون پر زیادہ سختی سے عمل کیا جائے۔

ہومین رائٹس واچ کے ایرک گیڈچکس کہتے ہیں کہ کسی حد تک بوکو حرام کی سرگرمیاں، اس کرپشن اور دیدہ دلیری کا ردِ عمل ہیں جو سکیورٹی فورسز اور حکومت کے اعلیٰ طبقے میں عام ہے۔

بہت سے لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ تشدد کے خاتمے کے لیے فوجی طاقت سے نہیں، بلکہ بات چیت سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ تاہم بوکو حرام نے منگل کے روز کہا کہ جب تک اس کے تمام گرفتار شدہ ارکان غیر مشروط طور پر رہا نہیں کیے جاتے مصالحت کے لیے کوئی بات چیت نہیں  کی جائے گی۔

Categories: Latest News

بے نظیر بھٹو قتل سے متعلق تحقیقات منظر عام پر آگئیں

11 hours 16 min ago

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے سن 2007ء میں سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کی راہنما بے نظیر بھٹو کے قتل سے متعلق تحقیقات پرسے پردے اٹھا دیئے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ قتل القاعدہ کے رکن بیت اللہ محسود اور ابو عبید المصری کی سازش کا نتیجہ تھا ۔ سازش جنوبی وزیرستان میں مکین کے مقام پر تیار کی گئی تھی۔

وفاقی وزیر نے منگل کی سہ پہر سندھ اسمبلی میں بے نظیر بھٹو قتل سے متعلق تحقیقات ایوان کے روبرو پیش کیں جو کئی گھنٹوں پر محیط تھیں۔ ان کے بعد بے نظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ خالد قریشی نے بھی ایوان کوقتل سے متعلق مزید بریفنگ دی۔

سندھ اسمبلی میں حال ہی میں ایک قرار داد منظور کی گئی تھی جس میں ارکان نے وفاقی حکومت سے بے نظیر بھٹو قتل کیس سے متعلق تحقیقات سے ایوان کوا ٓگاہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

تحقیقاتی بریفنگ کے دوران رحمن ملک نے اپنے دعویٰ کے ثبوت کے طور پر سندھ اسمبلی کے ارکان کے سامنے ویڈیوز، تصاویر اور مختلف چارٹس بھی پیش کئے ۔ ان کی جانب سے ارکان کو بتایا گیا کہ سازش بیت اللہ محسود اور القاعدہ کے دہشت گرد ابوعبیدہ المصری نے تیار کی تھی ۔ ویڈیو میں مذکورہ دونوں افراد کو ایک ساتھ نماز پڑھتے اور بعد ازاں ہدایات لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔

<!--IMAGE-RIGHT-->

بریفنگ کے وقت ارکان سندھ اسمبلی کو بینظیربھٹو پر حملے سے پہلے کی ویڈیو بھی دکھائی گئی اور اس وقت کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود اور مولوی صاحب کی گفتگو کا متن بھی دکھایا گیا جس میں انہوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ بریفنگ کے دوران ارکان اسمبلی کو اسکرین پر رپورٹ کے کچھ حصے کی نقل اور ملزمان کے اقبالی بیانات سمیت مختلف دستاویزات دکھائی گئیں ۔ ساتھ ہی 2007ء میں طالبان قیادت کا مکمل چارٹ بھی دکھایا گیا۔

ادھر بے نظیر بھٹو قتل کیس کے  تفتیشی افسر خالد قریشی کا کہنا ہے کہ طالبان اور پرویز مشرف بے نظیر کو خطرہ سمجھتے تھے۔ سندھ اسمبلی میں بریفنگ کے دوران خالد قریشی کا کہنا تھا کہ قاری حسین نام کے ایک شخص نے جو القاعدہ کا ٹرینر ہے ،  بمبار تیار کئے جبکہ ایک اور شخص قاری اسماعیل نے جیکٹس فراہم کیں۔

خالد قریشی کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو وطن واپسی پر خطرات کا سامنا تھا۔ طالبان اور مشرف محترمہ کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے،  بینظیربھٹو کو قتل کرنے کیلئے کالعدم تحریک طالبان کے جھنڈے تلے 27 دہشت گرد گروپ منظم ہوئے، جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں منصوبہ بندی کی گئی۔ منصوبہ ساز اور رقم فراہم کرنے والے کا تعلق فاٹا سے ہے۔ قاری حسین جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کا ٹرینرتھا اور اسی نے درجنوں خودکش بمبار تیار کئے۔ الیاس کشمیری اور میجر ہارون بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بے نظیر بھٹو پر حملے کے بعد بیت اللہ محسود اورمولوی صاحب کی بات چیت ریکارڈ ہوئی۔ یہ گفتگو پشتو میں کی گئی جس میں بیت اللہ محسود نے پوچھتا ہے کہ ہمارے لوگ تھے، بیت اللہ محسود نے ٹیلی فونک گفتگو میں مبارکباد بھی دی۔مولوی صاحب نے جواب میں بتایاکہ لڑکے دلیر تھے،آکرسب بتاوٴں گا، سربراہ تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ مولوی صاحب کی شخصیت ابھی تک پراسرار ہے،ممکنہ طور پر مولوی صاحب کا نام مولوی انور ہے۔

خالد قریشی کے مطابق قاری اسماعیل نے بمباروں کو جیکٹس فراہم کیں، خودکش بمباروں بلال اور قاضی کوایک اور شخص نصراللہ نے راولپنڈی پہنچایا، رفاقت خودکش بمباروں کو راولپنڈی تک لے کرگیا، بمباروں کو پیرودھائی سے لیاقت باغ پہنچایا گیا، ان کے پاس پستول اور دستی بم بھی تھے   جو موبائل فون نصراللہ اور عبادالرحمن استعمال کررہے تھے ، اسی نمبر سے کراچی سے اغوا ہونے والے فلمساز ستیش آنند کے گھر والوں کو تاوان کی کال آئی تھی۔ اور ایک سال بعد وہی سم استعمال کرنے سے ملزمان کا پتہ چلا۔

خالد قریشی کے مطابق راولپنڈی پولیس نے اعتزاز، قاری حسین شاہ ، رشید ترابی کو گرفتار کیا، جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ان افراد نے اقرار جرم کیا۔ خالد قریشی نے بتایا کہ ایک موبائل فون صرف ایک آپریشن میں استعمال کیا جاتا تھا جو کسی دہشت گرد کے نام پر نہیں ہوتا تھا۔ بینظیربھٹو کے قتل کے کچھ ماہ بعد عبادالرحمن نے ٹیکسلا میں شادی کی۔

خالد قریشی نے بتایا کہ نوجوان لڑکوں کو خودکش حملوں کے لئے تیارکیاجاتا تھا،رشیداحمد ترابی زیادہ پڑھا لکھا تھااور وہ کامرہ حملے میں بھی ملوث تھا۔خالدقریشی کے مطابق حسین گل کو خودکش حملے کے لیے راضی کیا گیا۔ کیس میں نصراللہ نامی شخص بھی شامل ہے۔

خالد قریشی کے مطابق بے نظیربھٹو کی موت سر میں شدید چوٹ لگنے سے ہوئی۔ بے نظیربھٹو کو سر کے اطراف دو چوٹیں لگیں۔ ایوان کو رحمن ملک نے بتایا کہ پرویزمشرف نے مذاکرات کے دوران بینظیربھٹو سے کہا تھا کہ انتخابات سے پہلے پاکستان نہ آئیں۔ اس پر بینظیر بھٹو نے کہا کہ یہ فیصلہ وہ خود کریں گی۔

رحمن ملک کے مطابق بینظیر بھٹو کی طرف سے پاکستان نہ آنے کی بات نہ ماننے پر پرویزمشرف نے دھمکی دی تھی کہ واپسی پر نتائج کی ذمہ دار وہ خود ہوں گی۔

رحمن ملک نے کہا کہ بینظیر بھٹو کو طویل عرصے سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ نوازشریف کے دور میں سیف الرحمن کی طرف سے جھوٹے مقدمات درج کرائے جانے کا سلسلہ پرویز مشرف کے دور میں بھی جاری رہا۔  تاہم محترمہ بینظیربھٹو نے تمام زیادتیوں کے باوجود مفاہمت کا فیصلہ کیا۔

 سابق صدر پرویز مشرف کا موقف
 ان تحقیقات کے حوالے سے سابق عسکری صدر پرویز مشرف کا مقامی ٹی وی چینل اے آر وائی کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کہنا ہے کہ بے نظیر انہیں کبھی خطرہ نہیں سمجھتی تھیں بلکہ وہ تو مجھ سے ڈیل کررہی تھیں۔ صدر نےا نکشاف کیا کہ ان کی بے نظیر بھٹو سے دبئی میں دو مرتبہ ملاقات ہوچکی تھیں۔ بے نظیر اگر گاڑی میں ہوتیں تو محفوظ رہتیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے بے نظیر کو خود فون کرکے بتایا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ پرویزمشرف کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فراہم کرنا صدرمملکت کا کام نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ میری اور بے نظیر کی ملاقات میں رحمن ملک شامل نہیں ہوتے تھے۔

پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ بے نظیر چاہتی تھیں کہ مقدمات ختم ہوں۔ ویسا ہی ہوابھی۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان آیا ، عدالت جاوٴں گا ، اس میں مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا 18 اکتوبر کے بعدسے بے نظیر سے کوئی رابطہ نہیں ہواتھا۔

Categories: Latest News

آسٹریلوی وزیرِ خارجہ مستعفی

11 hours 17 min ago

آسٹریلیا کے وزیرِ خارجہ کیون رڈ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ کا اعلان کیا ہے، جو حکمران ’لیبر پارٹی‘ میں انتشار کو ظاہر کرتا ہے۔

کیون رڈ نے یہ اعلان منگل کو رات دیر گئے واشنگٹن کے سرکاری دورے کے دوران کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ وزیرِ اعظم جولیا گیلارڈ کی حمایت اور اعتماد کی غیر موجودگی میں اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے۔

آسٹریلوی ذرائع ابلاغ حالیہ دنوں میں یہ خبریں شائع اور نشر کرتے رہے ہیں کہ مسٹر رڈ دوبارہ حکمران جماعت کا سربراہ بننے کے لیے منصوبہ سازی کر رہے ہیں۔

2010ء میں ایسی ہی صورت حال میں جولیا گیلارڈ جماعت کی سربراہ بنی تھیں اور کیون رڈ کو وزیرِ اعظم کے عہدے سے الگ ہونا پڑا تھا۔

جولیا گیلارڈ کے حامیوں نے کیون رڈ کو کابینہ کے رکن کی حیثیت سے برطرف کرنے کے مطالبات بھی کیے تھے۔ جب کہ وزیرِ خارجہ نے منگل کے روز شکوہ کیا کہ وزیرِ اعظم گیلارڈ ان مطالبات کو مسترد کرنے میں ناکام رہیں۔

Categories: Latest News

میمو اسکینڈل: منصور اعجاز کی ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی

11 hours 19 min ago

امریکی قیادت کو بھیجے گئے متنازع ’’میمو‘‘ یا مراسلے کے اہم گواہ امریکی شہری منصور اعجاز کا بدھ کو لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کیا گیا۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائض عیسیٰ کی سربراہی میں قائم تین رکنی عدالتی کمیشن کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری کا کہنا ہے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے کسی بھی گواہ سے موثر جرح کرنا ممکن نہیں ہے۔

کمیشن کی کارروائی کے آغاز سے قبل زاہد بخاری نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ برطانیہ کا ویزا بر وقت نہ ملنے کی وجہ سے وہ لندن نہیں جا سکے۔

اُنھوں نے کہا کہ گواہ سے جرح کرنے کے لیے وکیل کا اس کے سامنے موجود ہونا ضروری ہے۔ ’’کبھی گواہ سے درشت لہجے میں بات کرنی پڑتی ہے، کبھی محبت سے کرنی پڑتی ہے … یہ پروفیشن کی ٹیکنیکس ہیں تو یہ ساری اسی وقت ممکن ہیں جب میں ان کے سامنے بیٹھوں گا۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ وہ کمیشن کو بتائیں گے کہ ’’جناب میرا قانونی حق ہے جرح کرنے کا، جس طرح دوسروں کو فیسلیٹیٹ (سہولت) دی گئی اس طرح مجھے بھی دیا جائے۔‘‘

سلامتی کے خدشات کے باعث منصور اعجاز نے پاکستان آ کر اپنا بیان ریکارڈ کروانے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد عدالتی کمیشن نے لندن سے ان کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرانے کا حکم دیا تھا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عدالتی کارروائی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی بھی گواہ کا ’ویڈیو لنک‘ کے ذریعے بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی صدر سے منسوب اس مکتوب میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ دو مئی کو اُسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لیے ایبٹ آباد میں کی گئی یکطرفہ امریکی فوجی کارروائی پر پاکستان کی فوج غضبناک ہو چکی ہے اور بغاوت کے ذریعے سیاسی حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس ممکنہ بغاوت کو روکنے کے لیے فوجی قیادت کی برطرفی کے سلسلے میں امریکہ سے مدد مانگی گئی تھی۔

منصور اعجاز کا الزام ہے انھوں نے سابق سفیر حسین حقانی کی طرف سے بھیجے گئے ممیو کو امریکی حکام تک پہنچایا تھا۔

لیکن حسین حقانی سپریم کورٹ اور تحقیقاتی کمیشن کے سامنے اپنے بیانات حلفی میں کہہ چکے ہیں کہ ان کا اس مراسلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Categories: Latest News

قرآن کی بے حرمتی کے خلاف افغانوں کے مظاہرے جاری

12 hours 36 min ago

افغانستان میں امریکہ کے زیر انتظام بگرام ائربیس پر قرآنی نسخوں کو جلانے کے واقعہ کے خلاف بدھ کو دوسرے روز بھی کابل سمیت ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی فائرنگ میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوگئے۔

ایک روز قبل امریکہ اور نیٹو نےاس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس پر افغان عوام سے معذرت کی تھی لیکن بظاہر یہ معافی مشتعل افراد کو جلسے جلسوں سے نہیں روک سکی ہے۔

پروان صوبے میں، جہاں بگرام ائربیس واقع ہے، مشتعل مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک جبکہ ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین سرکاری عمارتوں پر حملے کی کوشش کررہے تھے۔

لوگر صوبے میں بھی احتجاج میں شامل ایک شخص پولیس کی گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا جبکہ کابل کے مظاہروں میں زخمی ہونے والے ایک شخص نے اسپتال میں دم توڑ دیا۔

دارالحکومت میں مظاہرین اور پولیس میں ہونے والے تصادم میں 21 افراد زخمی ہوئے جن میں 11 پولیس اہلکار ہیں۔ پاکستانی سرحد سے ملحق مشرقی افغان شہر جلال آباد میں بھی قرآن کی بے حرمتی کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔

اُدھرنائب امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نےافغان دارالحکومت میں صدر حامد کرزئی سے ملاقات کر کے اُنھیں قرآن کی ’’غیر دانستہ‘‘ طور پر کی گئی بے حرمتی کے واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور ایک بار پھراس پر افغانستان کی حکومت اور عوام سے معافی مانگی۔

کابل میں صدارتی محل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں نیٹو کے کمانڈر جنرل جان ایلن بھی نائب امریکی وزیر دفاع کے ہمراہ موجود تھے۔

’’صدر کرزئی نے نیٹو کے کمانڈر سے اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والے وفد سے مکمل تعاون کرنے کو کہا اور یہ بھی کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے چاہیئں۔‘‘

ملاقات میں جن دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ان میں سلامتی کی صورت حال، افغان فورسز کی تربیت اور انھیں مسلح کرنے، شکاگو میں ہونے والی کانفرنس اور بگرام کی جیل کا انتظام افغانستان کو منتقل کرنا شامل تھا۔

’’اس جیل کا انتظام افغان حکومت کو منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر کرزئی نے کہا کہ جس قدر جلد آپ یہ انتقال کردیتے ہیں، مسائل اور بدقسمت واقعات سے آپ کا پالا بھی اُسی قدر کم پڑے گا۔ ‘‘

Categories: Latest News